Enjoy intersting short stories

Tuesday, 21 November 2017

افسانہ : میرا جنونی بیٹا ---- تحریر: حنیف قریشی برطانیہ

Read online 
or


افسانہ : میرا جنونی بیٹا

تحریر: حنیف قریشی (برطانیہ)

مترجم: مسعود اشعر (لاہور، پاکستان)

باپ نے چوری چوری اپنے بیٹے کے کمرے میں جانا شروع کیا۔ وہ وہاں گھنٹوں بیٹھا رہتا، صرف اس وقت اٹھتا جب اسے اپنی ہر روز کی تلاش اور چھان بین کے سلسلے میں کوئی نئی چیز یا کوئی نیا سراغ ملتا۔ اسے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ علی روز بروز صفائی پسند اور سلیقہ مند ہوتا جارہا تھا۔ اس کا کمرہ جس میں ہمیشہ اس کے کپڑے، کتابیں، کرکٹ کے بلے اور وڈیو گیمز اِدھر اُدھر بکھرے پڑے رہتے تھے، اب صاف ستھرا اور نہایت قرینے سے سجا سجایا نظر آنے لگا تھا۔ وہ کمرہ جس میں اتنا  اُلٹا سیدھا انبار پڑا ہوتا تھا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی، وہاں اب جگہ ہی جگہ تھی۔ کمرہ خوب کُھلا کُھلا نظر آتا تھا۔
شروع میں تو پرویز کو خوشی ہوئی کہ اس کا بیٹا بالغ ہوگیا ہے اور لڑکپن کا لااُبالی پَن پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ لیکن ایک دن کوڑے دان کے پاس پرویز کو ایک پھٹا ہوا پلاسٹک کا تھیلا نظر آیا۔ تھیلے میں پرانے کھلونوں کے ساتھ بہت سی کمپیوٹر ڈسکیں، وڈیو ٹیپس، نئی کتابیں اور نئے فیشن کے وہ کپڑے بھی تھے جو علی نے ابھی دو تین مہینے پہلے ہی خریدے تھے۔ علی نے کوئی وجہ بتائے بغیر ہی اپنی اس انگریز گرل فرینڈ سے بھی ملنا چھوڑ دیا تھا جو اکثر ان کے گھر بھی آتی رہتی تھی۔ اس کے پرانے دوستوں نے اسے ٹیلی فون کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔
ان عجیب و غریب حرکتوں کے بارے میں پرویز ابھی تک علی سے بات نہیں کرپایا تھا۔ بات کیوں نہیں کر پایا تھا۔ یہ پرویز خود بھی نہیں جانتا تھا۔ ہاں اتنا ضرور جانتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے ڈرتا ہے۔ بیٹا جہاں اکثر خاموش رہتا تھا وہاں وہ زبان دراز بھی ہوتا جارہا تھا۔ ایک بار پرویز نے یونہی پوچھ لیا، "تم اب گٹار نہیں بجاتے؟" اس پر اسے ایک پراسرار لیکن منھ توڑ جواب ملا۔ "اس سے بھی زیادہ اہم کام ہیں کرنے کو۔"
پرویز محسوس کرتا تھا اس کے بیٹے کا یہ سنکی پن اس کے اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔۔۔۔ وہ جو اس کا باپ  ہے اور اس کے اچھے برے کا ذمہ دار۔ وہ ان خرابیوں سے خوب واقف تھا جن کا شکار دوسرے لوگوں کے بچے ہوگئے تھے۔ وہ دن رات علی کے لیے ہی تو محنت کرتا تھا۔ اس نے علی کو اکاؤنٹنٹ بنانے کے لیے اس کی تعلیم   پر بے تحاشا  رقم خرچ کی تھی۔ اس نے علی کو نیا سے نیا سوٹ خرید کر دیا۔ جتنی بھی کتابوں کی ضرورت ہوئی اس نے خرید کر دیں ، اتنا مہنگا کمپیوٹر خرید کر دیا اس کو ۔۔۔۔۔ اور یہ صاحب زادے ہیں کہ یہ سب کچھ کوڑے میں پھینک رہے ہیں۔ پہلے گٹار گیا، اس کے بعد ٹیلی وژن، وڈیو پلیئر اور پھر اسٹیریو سسٹم۔ اب تو دیواروں پر بھی پیلے پیلے دھبے دکھائی دینے لگے تھے۔۔۔۔ وہاں پہلے علی کی تصویریں ٹنگی تھیں۔
پرویز کی نیندیں اڑ گئی تھیں۔ اب وہ کام کے وقت بھی شراب پینے لگا تھا۔ وسکی کی بوتل اب اکثر اس کے ہاتھ میں ہوتی۔ آخر اس نے سوچا اب تو کسی ایسے آدمی سے مشورہ کرنا ضروری ہوگیا ہے جسے اس کے ساتھ ہمدردی ہو۔
پرویز بیس سال سے ٹیکسی چلا رہا تھا۔ دس سال سے وہ ایک ہی فرم میں کام کررہا تھا۔ اس کی طرح اکثر ڈرائیور پنجابی تھے۔ وہ رات ہی کو کام کرتے تھے جب ساری سڑکیں خالی ہوتیں اور کرایہ زیادہ ملتا۔ وہ دن کو سوتے تھے اور اپنی بیویوں سے دور دور ہی رہتے تھے۔ وہ سب چھڑے چھانٹ لڑکوں کی سی زندگی گزارتے تھے۔ تاش کھیلتے، ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے، گندے لطیفے سناتے قریب کے ہوٹلوں سے بالٹی گوشت منگا کر کھاتے، سیاست پر باتیں کرتے اور اپنی پریشانیاں بانٹتے۔
لیکن پرویز کو علی کے بارے میں اپنے دوستوں سے باتیں کرتے شرم آتی تھی۔ وہ ڈرتا تھا کہ علی کی ان حرکتوں کا ذمہ دار اسی کو ٹہرایا جائے گا۔ وہ بھی ان ماں باپ کو برا بھلا کہتا تھا جن کے لڑکے الٹی سیدھی لڑکیوں کے پیچھے بھاگے پھرتے تھے۔ اسکول نہیں جاتے تھے اور آوارہ لڑکوں کے گروہ میں شامل ہوگئے تھے۔
برسوں سے پرویز اپنے ساتھیوں پر رعب گانٹھتا آرہا تھا کہ علی کتنی اچھی کرکٹ کھیلتا ہے، تیراکی اور فٹ بال میں اس کا کتنا نام ہے اور پھر پڑھائی میں کتنا اچھا ہے۔۔۔۔۔ اکثر مضمونوں میں  A  لیتا ہے۔ اب اگر وہ علی سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ کوئی اعلٰی ملازمت کرے، اچھی سی لڑکی سے شادی کرے اور اپنا گھربار بنائے تو کیا یہ غلط ہے؟ ایسا ہوجائے تو وہ دنیا کا سب سے زیادہ خوش قسمت انسان ہوگا۔ اس کا وہ خواب پورا ہوجائے گا جو اس نے انگلستان میں ہنسی خوشی زندگی گزارنے کے لیے دیکھاہے۔ آخر اس سے کہاں غلطی ہوئی؟
ایک رات وہ ٹیکسیوں کے دفتر میں اپنے دو بے تکلف دوستوں کے ساتھ بیٹھا سلویسٹر اسٹالون کی فلم دیکھ رہا تھا تو اس نے زبان کھولی۔
"میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا!" وہ پھٹ پڑا۔ "اس کے کمرے سے ایک  ایک چیز غائب ہوتی جارہی ہے اور میں اس سے بات بھی نہیں کرسکتا۔ ہم تو باپ بیٹا نہیں، بھائی بھائی تھے۔ اسے کیا ہوگیا ہے؟ مجھے کیوں تنگ کررہا ہے وہ؟" پرویز نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکر لیا۔
وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا تو اس کے دوست سر ہلا رہے تھے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کررہے تھے۔
"تمھارا کیا خیال ہے، کیا ہوا ہے اسے؟" اس نے سوال کیا۔
اس سوال کا جواب اسے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ملا۔ وہ دوست جیسے سب کچھ سمجھ گئے تھے۔ معاملہ صاف تھا۔ علی نشہ کرنے لگا ہے اور نشے کے لیے اپنی تمام چیزیں بچک رہا ہے۔ اسی لیے اس کا کمرہ خالی ہوتا جارہا ہے۔
"میں کیا کروں ؟"
پرویز کے دوستوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ علی کی حرکتوں کی نگرانی کرے اور اس کے ساتھ سختی کرے۔ ورنہ وہ لڑکا زیادہ نشیلی چیزیں کھا کر مر جائے گا یا کسی کو قتل کردے گا۔
صبح کی ٹھنڈی ہوا میں پرویز وہاں سے لڑکھڑاتا ہوا نکلا۔ یہ لوگ سچ کہتے ہیں۔ وہ خوف سے کانپنے لگا۔ اس کا بیٹا اور نشئی۔۔۔۔ قاتل؟
اسے یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ اس کی گاڑی میں بیٹینا بیٹھی تھی۔
عام طور پر رات کے پچھلے پہر میں اس کے آخری گاہک محلے کی آوارہ عورتیں یا طوائفیں ہوتی تھیں۔ ٹیکسی ڈرائیور ان عورتوں کو اچھی طرح جانتے تھے اور انھیں ان کے دلالوں تک پہنچا دیتے تھے۔ رات گئے فارغ ہونے کے بعد وہ عام طور پر تو گھروں کو چلی جاتی تھیں لیکن کبھی کبھی ان میں سے کوئی عورت ان کے ساتھ پینے پلانے ان کے دفتر میں بیٹھ بھی جاتی تھی۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی لڑکی کسی ڈرائیور کو بھی خوش کردیا کرتی تھی۔ اسے وہ کہتے: سواری کے بدلے سواری۔
بیٹینا پرویز کو تین سال سے جانتی تھی۔ وہ شہر سے باہر رہتی تھی اور اپنے گھر جاتے ہوئے کار میں وہ پرویز کے ساتھ ہی بیٹھتی تھی۔ اس لمبے راستے میں پرویز نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔۔ وہ کون ہے، اس کی امنگیں اور آرزوئیں کیا ہیں، وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ بیٹینا نے بھی اسے اپنے بارے میں  بتایا تھا۔ وہ راتوں کو اکثر ملتے رہتے تھے۔
پرویز بیٹینا سے وہ باتیں بھی کرلیتا تھا جو وہ اپنی بیوی سے نہیں کرسکتا تھا۔ بیٹینا بھی اسے اپنی راتوں کی کار گزاریاں سنایا کرتی تھی۔ پرویز بھی جانتا تھا کہ وہ رات اس نے کس کے ساتھ گزاری۔ ایک مرتبہ پرویز نے اسے ایک جھگڑالُو گاہک سے بچایا بھی تھا۔ اس کے بعد ہی وہ دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگے تھے۔
بیٹینا علی سے کبھی ملی تو نہیں تھی مگر اس کے بارے   میں اتنا سنا تھا کہ وہ اسے خوب جانتی تھی۔ اس رات جب پرویز نے اس سے کہا کہ علی شاید نشہ کرنے لگا ہے تو اس نے نہ تو علی کو برا بھلا کہا اور نہ پرویز پر کوئی الزام لگایا، بلکہ نرمی سے بولی،  "یہ تو آنکھوں سے پتا چل سکتا ہے۔ آنکھیں لال رہتی ہوں گی، پتلیاں پھیلی پھیلی ہوں گی، علی تھکا تھکا سا لگتا ہوگا، اسے پسینہ آتا رہتا ہوگا، جلدی جلدی مزاج بدل جاتا ہوگا۔ بس تم یہ دیکھ لو۔" یہ باتیں سن کر پرویز کو جیسے تسلی سی ہوگئی۔
اب پرویز نے علی پر نظر رکھنا شروع کردیا۔ وہ جانتا تھا کہ کن چیزوں پر غور کرنا ہے۔ وہ دیکھ رہا تھا اور اسے اطمینان ہورہا تھا کہ حالات ابھی زیادہ خراب نہیں ہوئے ہیں۔
علی کے منھ میں جو بھی نوالہ جاتا پرویز اس پر نظر رکھتا۔ وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھتا اور تھوڑی دیر بعد اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھتا۔ کسی نہ کسی بہانے لڑکے کا ہاتھ پکڑ لیتا اور دیکھتا کہ اس کے ہاتھ گرم تو نہیں ہیں۔ علی گھر پر نہ ہوتا تو پرویز کو موقع مل جاتا اور وہ قالین کے نیچے علی کی درازوں میں اور خالی وارڈروب کے پیچھے کھکھوڑتا رہتا۔ ہر چیز کو سونگھتا، ہر چیز کو غور سے دیکھتا اور پتا لگانے کی کوشش کرتا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کیا تلاش کررہا ہے۔ بیٹینا نے کیپسول، سرنج، گولیوں، پاؤڈر اور وکس کی تصویریں بنا دی تھیں۔
ہر رات بیٹینا انتظار کرتی کہ پرویز کیا خبر لایا ہے۔ آخر کئی دن کی دیکھ بھال کے بعد پرویز نے اسے بتایا کہ علی نے کھیلوں میں حصہ لینا تو بند کردیا ہے مگر وہ بالکل صحت مند ہے۔ اس کی آنکھیں صاف صاف شفاف ہیں۔ پرویز کو تو بتایا گیا تھا کہ جرم کے احساس سے علی اس سے آنکھیں چرائے گا مگر وہ بالکل ایسا نہیں کرتا تھا۔ بلکہ ایسا لگتا تھا کہ لڑکا پہلے سے بھی زیادہ چاق و چوبند ہوگیا ہے اور اس کے اندر ذرا سا بھی چڑچڑا پن نہیں ہے۔ وہ ہر بات پر زیادہ توجہ دینے لگا ہے۔ وہ اپنے باپ کی ٹٹولتی نظروں کا جواب اس سے بھی زیادہ شکایت بھری نظروں سے دیتا۔ ایسی نظروں سے جن میں ملامت بھی شامل ہوتی۔ حتی کہ پرویز کو محسوس ہونے لگتا کہ اس کا بیٹا نہیں وہ خود غلطی پر ہے۔
"اور جسمانی طور پر بھی اس کے اندر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی؟" بیٹینا نے پوچھا۔
"بالکل نہیں۔" پرویز نے سوچتے ہوئے کہا۔ "مگر وہ داڈھی بڑھا رہا ہے۔"ایک رات پرویز بہت دیر تک کافی شاپ میں بیٹھا بیٹینا سے باتیں کرتا رہا۔ وہ کافی شاپ رات بھر کھلی رہتی تھی۔ بیٹینا اور پرویز کو یقین کرنے کو جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ علی نشہ نہیں کرتا، کیونکہ پرویز کو علی کے کمرے میں ایک بھی چیز ایسی نہیں ملی تھی جو نشے والی لگتی ہو۔ اس کے علاوہ علی اپنا سامان بیچ نہیں رہا تھا بلکہ وہ اسے پھینک دیتا تھا، کسی کو دے دیتا تھا یا خیرات والی دکانوں پر رکھ آتا تھا۔
پرویز نیچے ہال میں کھڑا تھا کہ علی کے کمرے سے ٹائم پیس کا الارم بنےن کی آواز آئی۔ وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔ اس کی بیوی بستر پر بیٹھی کوئی کپڑا سی رہی تھی۔ اس نے اس سے کہا، "خاموشی سے بیٹھی رہو، اٹھنا نہیں۔" حالانکہ وہ بالکل نہیں اٹھ رہی تھی اور نہ اس نے ایک لفظ بھی بُولا تھا۔ پرویز دروازے کی جھری میں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی بیوی حیران پریشان اسے دیکھ رہی تھی۔
لڑکا غسل خانے میں گیا۔ پرویز اس وقت تک جھانکتا رہا جب تک لڑکا غسل خانے سے واپس نہیں آگیا۔ وہ باہر نکلا تو پرویز نے اس کے دروازے سے کان لگا دیے۔ اندر سے کچھ پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔ پرویز کی سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا مگر اسے تسلی ہوئی کہ کوئی گڑ بڑ نہیں ہے۔ یہ پتا چل گیا تو اس نے یقین کرنے کے دوبارہ پھر کان لگا کر سنا۔ لڑکا نماز پڑھ کر دعا مانگ رہا تھا۔ جب بھی وہ گھر پر ہوتا، پانچوں وقت کی نماز پڑھتا۔
پرویز لاہور میں پلا بڑھا تھا جہاں تمام بچوں کو قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ مولوی صاحب پرویز کے بالوں میں رسی باندھ کر رسی کا ایک سرا چھت سے باندھ دیتے تھے کہ اسے نیند آئے تو رسی کے جھٹکے سے اس کی اؔٓنکھ کھل جائے اور وہ اپنا سبق یاد کرلے۔ پرویز پر اس کا ایسا اثر ہوا تھا کہ وہ مذہب سے ہی بھاگنے لگا تھا۔ دوسرے ڈرائیور بھی اس کے ہم خیال تھے بلکہ وہ تو ان مولویوں کا مذاق اڑاتے تھے جو ٹوپیاں پہنے اور لمبی لمبی داڑھیاں رکھے ادھر سے گزرتے تھے۔ وہ کہتے، یہ مولوی سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو نیک پاک زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھارہے ہیں حالانکہ خود ان کی نظریں ان لڑکوں اور لڑکیوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں، جو ان کے پاس پڑھنے آتی ہیں۔ پرویز نے جو دیکھا تھا وہ سب بیٹینا کو بتا دیا۔ ٹیکسی آفس میں اپنے ساتھیوں کو بھی بتایا کہ اس نے کیا دیکھا اور کیا سنا۔ اس کے دوست جو ہر وقت ٹوہ میں لگے رہتے تھے اب خاموش ہوگئے۔ وہ محض اس لیے تو علی کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ مذہبی ہوگیا ہے۔

ایک دن پرویز نے فیصلہ کیا کہ ایک رات چھٹی کی جائے اور بیٹے کے ساتھ لمبی سیر کی جائے۔ سیر کرتے وقت اس کے ساتھ کھل کر باتیں کی جاسکتی ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس سے اس کے کالج کے بارے میں باتیں کرے۔ اس کی پڑھائی کسی  ہورہی ہے؟ کون کون دوست ہیں، اس کے؟ اور وہ کیا کرتا ہے؟ وہ پاکستان میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کے متعلق بھی اسے بتانا چاہتا تھا۔ سب سے زیادہ تو وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ علی مذہب کی طرف راغب کیسے ہوا۔۔۔۔ بیٹینا اسے روحانی شعور یا زندگی کا روحانی پہلو کہتی تھی۔۔۔۔ کہ علی نے زندگی کا یہ روحانی پہلو کیسے دریافت کیا؟لیکن لڑکے نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ پرویز کو شدید صدمہ ہوا۔ علی نے کہہ دیا، "مجھے کام سے جانا ہے۔" پرویز نے بہت اصرار کیا۔۔۔ اسے سمجھایا کہ باپ کی بات ماننے سے زیادہ اہم کوئی کام نہیں ہوسکتا۔۔ مگر علی نہیں مانا۔
دوسرے دن پرویز سیدھا گلی کے اس نکڑ پر پہنچا جہاں بیٹینا کھڑی بارش میں بھیگ رہی تھی۔ اس نے اونچی ایڑی کے جوتے  اونچا اسکرٹ اور لمبی برساتی پہن رکھی تھی۔ وہ آتے جاتے لوگوں کو للچائی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور جو بھی اس کے قریب سے گزرتا وہ جلدی سے اپنی برساتی  سامنے سے کھول دیتی۔
"جلدی بیٹھو، جلدی بیٹھو۔" پرویز نے کہا۔وہ جھاڑیوں بھرے کھلے میدان کی طرف نکل گئے اور ایسی جگہ گاڑی کھڑی کردی جہاں اچھے دنوں میں میلوں چٹیل میدان ہوتا تھا اور جنگلی ہرنوں اور گھوڑوں کے سوا انھیں دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ وہ وہاں آنکھیں بند کرکے لیٹ جاتے اور سوچتے، ہاں، زندگی اسی کا نام ہے، لیکن اس دن پرویز کانپ رہا تھا۔ بیٹینا نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
"کیا ہوا؟"
"مجھے اپنی زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ ہوا ہے۔"
بیٹینا پرویز کا سر سہلانے لگی۔ وہ بتانے لگا کہ کل شام وہ علی کے ساتھ ہوٹل گیا۔ ابھی وہ کھانے کا مینو دیکھ ہی رہا تھا کہ ویٹر، جو پرویز کو جانتا تھا، اس کی پسند کی وسکی لے آیا۔ وہ شراب دیکھ کر پہلی بار اپنے بیٹے کے سامنے ایسا بوکھلایا کہ اس سے الٹے سیدھے سوال کرنے لگا۔ وہ پوچھنے لگا تھا کہ کیا علی اس لیے پریشان ہے کہ اس کے امتحان ہونے والے ہیں۔۔۔۔ لیکن زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ گھبراہٹ میں اس نے اپنی ٹائی ڈھیلی کی جلدی جلدی پو پوڈوم کھانے لگا۔ پھر وہسکی کا لمبا گھونٹ لیا۔
ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ علی نے برا سا منھ بنایا۔ "آپ جانتے نہیں شراب پینا حرام ہے؟"
"اس نے میرے ساتھ بدتمیزی سے بات کی تھی۔" پرویز نے بیٹینا سے کہا۔ "مجھے اتنا غصہ آیا کہ جی چاہا میں اسے وہیں ڈانٹوں کہ اپنے باپ سے اس طرح بات کرتے ہیں؟ مگر میں خاموش رہا۔ "
پرویز نے علی سے کہا کہ وہ برسوں سے دس دس بارہ بارہ گھنٹے کام کررہا ہے۔ آرام یا تفریح کے لیے بھی مشکل سے ہی وقت ملتا ہے۔ "میں نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ اگر کبھی کبھی شراب پی لیتا ہوں تو کونسا گناہ کرتا ہوں؟"
"مگر یہ حرام ہے۔" بیٹے نے کہا۔
"میں جانتا ہوں۔" پرویز نے کندھے اچکائے۔
"اور جوا کھیلنا بھی حرام ہے۔"
"مگر ہم بھی آخر انسان ہیں۔"
پرویز جب بھی وسکی کا گھونٹ لیتا لڑکا برا سا مجھ بناتا اور تیوی چڑھا لیتا۔ پرویز بھی چڑگیا تھا۔ علی جتنا منھ بناتا وہ اور بھی لمبی چسکی لیتا۔ ویٹر نے انھیں خوش کرنے کے لیے وسکی کا ایک اور گلاس لا کر رکھ دیا۔ پرویز جانتا تھا کہ اس پر نشہ چڑھ رہا ہے لیکن وہ پیئے جارہا تھا۔ علی کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ وہ گھن اور کراہیت کے ساتھ اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ اپنے باپ سے نفرت کرتا ہے۔
کھانا کھاتے ہوئے اچانک پرویز کا غصہ ابل پڑا۔ اس نے طیش میں آکر پلیٹ فرش پر پٹخ دی۔ وہ میز پوش بھی کھینچ کر پھینکنے والا تھا لیکن ویٹر اور دوسرے لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے اس لیے اس نے اپنے اوپر قابو پالیا۔ وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کا اپنا بیٹا سے اچھے برے کا فرق بتائے۔ وہ جاتا تھا کہ وہ برا آدمی نہیں ہے، اسے اچھے برے کی تمیز ہے۔ ہاں کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر وہ خود بھی شرمندگی محسوس کرتا ہے لیکن اس نے عزت اور شرافت کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔
"تم بتاؤ۔ مجھے برائیاں کرنے کا وقت ہی کب ملا؟" اس نے علی سے سوال کیا۔
بیتے نے دھیمی آواز میں آہستہ آہستہ باپ کو سمجھایا کہ آپ زندگی میں کبھی نیکی کی راہ پر نہیں چلے۔ آپ نے ہمشہس شریعت کی خلاف ورزی کی ہے۔
"مثلاً؟" پرویز نے چیخ کر پوچھا۔
مثالوں کے لیے علی کو زیادہ سوچنا نہیں پڑا۔ لگتا تھا جیسے وہ اس سوال کا انتظار ہی کررہا تھا۔ اس نے کہا، "کیا آپ سور کی پائی شوق سے نہیں کھاتے؟"
بھلا پرویز انکار کےست کرسکتا تھا کہ اسے وہ خستہ کرارا بیکن بہت پسند ہے جس پر بہت سے مشروم رکھے ہوں، ساتھ میں سرسوں کی چٹنی اور تلی ہوئی ڈبل روٹی کے سلائسوں میں اس کا سینڈوچ بنا ہو ۔ بلکہ وہ تو ہر روز اسی کا ناشتہ کرتا تھا۔
علی نے پرویز کو یاد دلایا کہ آپ نے تو امی سے بھی زبردستی سور کے ساسج پکوائے تھے۔ انھوں نے انکار کیا تھا تو آپ نے انھیں ڈانٹا تھا کہ تم اپنے گاؤں میں نہیں ہو۔ یہ انگلینڈ ہے۔ ہمیں ویسے ہی رہنا ہو گا جیسے یہاں لوگ رہتے ہیں۔ پرویز غصے میں کانپنے لگا اور اس نے طیش میں ایک اور وسکی منگالی۔"اصل مسئلہ یہ ہے۔" علی بولا۔ وہ میز پر اور آگے کو جھک آیا۔ اس رات پہلی بار اس کی آنکھیں بھی بول رہی تھیں۔ "کہ آپ پوری طرح مغربی تہذیب میں رنگ گئے ہیں۔"شراب کا گھونٹ پرویز کے حلق میں اٹک گیا۔ اسے لگا کہ اس کا دم گھٹ جائے گا۔ "مغربی تہذیب میں رنگ گیا ہوں؟" پرویز روہانسی آواز میں بولا۔ "مگر ہم یہیں تو رہتے ہیں۔""مغرب کے یہ مادہ پرست ہم سے نفرت کرتے ہیں پاپا۔" علی نے کہا۔ "آپ ان لوگوں سے کیسے محبت کرسکتے ہیں جو آپ سے نفرت کرتے ہوں؟""پھر ۔۔۔" پرویز نے زچ ہوکر کہا۔ "تمہارے خیال میں اس کا حل کیا ہے؟"علی کو شراب کے نشے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اپنے باپ کو ایسے مخاطب کررہا تھا جیسے کسی مشتعل مجمعے سے خطاب کررہا اور اپنی باتوں کی روانی سے اس ہجوم کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتا ہو۔ اسے قائل کرنا چاہتا ہو کہ ساری دنیا میں اسلام کا پرچم ہی لہرائے گا، کافر جہنم کی آگ میں جلیں گے اور یہودیوں اور عیسائیوں کا صفایا ہوجائے گا۔ مغرب ریا کاروں، بدکاروں، ہم جنس پرستوں ، نشیوں اور طوائفوں کا نبدان ہے۔ علی بول رہا تھا تو پرویز کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ  وہ واقعی لندن میں ہی بیٹھا ہے۔
"ہم لوگ اب تک بہت برداشت کرتے رہے ہیں لیکن اب اگر یہ ظلم و ستم نہ ہوا تو پھر اس کے خلاف جہاد ہی ہوگا۔""مگر کیوں، آخر کیوں؟" پرویز بولا۔"اس کا اجر ہمیں جنت میں ملے گا۔""جنت؟"پرویز کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس کا بیٹا اس سے کہہ رہا تھا۔ "اب بھی آپ توبہ کرلیجئے۔""مگر کیوں؟" پرویز نے کہا۔"آپ توبہ کریں۔ اپنے لیے دعا مانگیں۔ میرے ساتھ عبادت کریں۔" علی نے زور سے کہا۔
پرویز نے جلدی سے بل ادا کیا اور بیٹے کو لے کر باہر نکل گیا۔ وہ اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے علی کے اندر کسی اور کی آواز سما گئی ہے۔ اس کے اندر کوئی اور بول رہا ہے۔
راستے میں علی کار میں پیچھے بیٹھا جیسے وہ سواری ہو۔ "ایسی کون سی چیز تھی جس نے تمھیں ایسا بنا دیا؟"
پرویز نے سوال کیا لیکن اس کے اندر ایک خوف بھی تھا کہ شاید اس کا ذمہ دار وہ خود بھی ہے۔ "کیا کوئی  خاص واقعہ ہوا ہے جس سے تم متاثر ہوئے ہو؟"
"اس ملک میں رہنا ہی کافی ہے اس کے لیے۔"
"مگر مجھے انگلینڈ پسند ہے۔" پرویز نے کہا اور سامنے آئینے میں سے علی کو دیکھا۔ "یہاں تمھیں ہر کام کرنے کی آزادی ہے۔"
"یہی تو مشکل ہے۔" علی نے جواب دیا۔
برسوں کار چلانے کے بعد اس وقت پرویز کو محسوس ہوا کہ وہ سیدھا نہیں دیکھ سکتا۔ اس نے کار کو ایک لاری کے ساتھ ٹکردیا۔ اس کی کار کا سائیڈ مرر ٹوٹ گیا۔ وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس والے نے انھیں روکا نہیں ورنہ پرویز اپنے لائسسنس سے محروم ہوجاتا اور اس کے ساتھ ہی اس کی نوکری بھی جاتی۔
گھر پہنچے تو کار سے اترتے ہوئے پرویز لڑکھڑایا اور سڑک پر گرگیا۔ اس کے ہاتھوں میں کھرونچے لگ  گئے اور پتلون پھٹ گئی۔وہ بڑی مشکل سے خود ہی کھڑا ہوا۔ بیٹے نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
پرویز نے بیٹینا سے کہا کہ وہ نماز پڑھنے کو تیار ہے اگر اس کا بیٹا اس سے خوش ہوتا ہے۔ اگر میری نماز سے اس کی بے رحم نظریں میرے چہرے سے ہٹ سکتی ہیں تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔ مجھے تو افسوس اس بات کا ہے کہ میرا اپنا  بیٹا مجھ سے کہتا ہے کہ تو جہنم میں جائے گا۔"
اس دن تو پرویز بالکل ہی پاگل ہوگیا جب علی نے اسے بتایا کہ اس نے اپنی پڑھائی ختم کردی ہے۔ پرویز نے سوال کیا، "کیوں ؟" تو نہایت حقارت کے ساتھ جواب ملا، "مغربی تعلیم مذہب سے دشمنی سکھاتی ہے۔ اور ایک اکاؤنٹنٹ کی زندگی میں عورتوں سے ملنا، شراب پینا اور سود کھانا عام بات ہے۔"
"مگر اس میں بہت اچھی تنخواہ بھی تو ملتی ہے۔" پرویز نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔ "کئی سال سے تم اس کے لیے محنت کررہے ہو۔"
علی کہنے لگا کہ اب وہ جیلوں میں جاکر رضاکارانہ کام کرے گا۔" وہاں غریب مسلمان قیدی غلاظت اور گناہوں کے ماحول میں اپنا ایمان بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔"
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے علی نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ وہ داڑھی کیوں نہیں رکھتے۔ کم سے کم مونچھیں ہی رکھ لے۔
"مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنا بیٹا کھودیا۔" پرویز نے بیٹینا سے کہا۔ "میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ میرا اپنا بیٹا میری طرف ایسے دیکھے جیسے میں مجرم ہوں۔ اب میں نے بھی سوچ لیا ہے مجھے کیا کرنا ہے"
"کیا کرنا ہے؟"
"میں اس سے صاف صاف کہہ دوں گا کہ اپنی جانماز لپیٹے اور نکل جائے گھر سے۔ یہ کام میرے لیے بہت مشکل تو ہوگا مگر آج رات میں یہ کرکے رہوں گا۔"
"تم اتنی جلدی مایوس کیوں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔" اس نے کہا پرویز کو چاہیئے کہ علی کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔
پرویز بھی مان گیا کہ وہ ٹھیک کہتی ہے۔ حالانہہ وہ سمجھتا تھا کہ اب وہ اپنے بیٹے سے زیادہ پیار نہیں کر سکتا۔ پہلے بھی وہ جو پیار کرتا رہا ہے اس کے لیے ہی بیٹا کب اس کا ممنون ہوا ہے۔
اگلے دو ہفتے پرویز اپنے بیٹے کی زہریلی نظریں اور جلی کٹی باتیں برداشت کرتا رہا۔ اس نے علی سے اس عقیدے کے متعلق بات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب بھی اس کے منھ سے کوئی ایسی بات نکلتی جس میں ذرا سی بھی نکتہ چینی ہوتی تو علی نہایت دُرشتی کے ساتھ اس کا جواب دیتا۔ ایک بار علی نے پرویز سے کہا، "آپ تو گوروں کے آگے گڑگڑاتے ہیں، ناک رگڑتے ہیں ان کے سامنے، مگر میں اپنے آپ کو ذلیل نہیں کروں گا۔ آپ کو معلوم ہے مغرب کے باہر بھی دنیا ہے، حالانکہ مغرب اپنے آپ کو ہشہے  سب سے برتر سمجھتا رہا ہے۔"
"تمھیں کیسے پتا؟ تم تو کبھی انگلینڈ سے باہر گئے ہی نہیں۔"
علی نے اس کا جواب حقارت بھری نظروں سے دیا۔
ایک رات، یہ یقین کرلینے کے بعد کہ اس کے منھ سے شراب کی بو نہیں آرہی ہے پرویز کھانے کی میز پر علی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ علی یہ دیکھ کر ضرور خوش ہوگا کہ اس  نےداڑھی رکھ لی ہے۔ لیکن علی ایسے بیٹھا رہا جیسے اس نے اس کی داڑھی دیکھی ہی نہیں۔
اس سے ایک دن پہلے پرویز نے بیٹینا سے کہا تھا کہ اس کے خیال میں مغرب کے لوگ کبھی کبھی اپنے آپ کو ضرور اندر سے خالی محسوس کرتے ہوں گے۔ انسان کو زندہ رہنے کے ہے بہرحال کسی فلسفے کی ضرورت ہوتی ہے۔
"ہاں، یہ اچھا جواب ہوسکتا ہے۔" بیٹینا نے کہا تھا۔ "تم اسے ضرور بتاؤ کہ تمھارا زندگی کا فلسفہ کیا ہے۔ پھر اسے پتا چلے گا کہ دنیا میں دوسرے عقیدے بھی موجود ہیں۔"
بہت سوچنے کے بعد پرویز نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا۔ لڑکا اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس سے کسی بات کی توقع ہی نہیں کررہا ہے۔ لرزتی آواز میں پرویز  نےکہنا شروع کیا: "انسان کو دوسروں کی عزت کرنا چاہے پ۔ خاص طور سے بچوں کو اپنے ماں باپ کی ضرور عزت کرنا چاہیئے۔"
         لمحہ بھر کے لیے اسے ایسا لگا جیسے علی پر اس کی باتوں کا اثر ہورہا ہے۔ اس سے اس کی ہمت بندھی اور وہ بُولتا رہا۔ "اس دنیا میں یہی ایک زندگی ہے۔ میں جب مروں گا تو مٹی میں گل سڑ جاؤں گا۔ میری قبر سے گھاس اور پھول پودے اگیں گے۔ لیکن میری کوئی نہ کوئی چیز بہرحال زندہ رہے گی۔"
"وہ کس طرح؟"
"میں دوسرے لوگوں میں زندہ رہوں گا۔ مثلاً تمھارے اندر۔"
یہ سن کر لڑکے کے چہرے پر کرب ناک کیفیت نمودار ہوئی۔
"اور تمھارے بچوں اور تمھارے پوتوں پوتیوں میں۔" پرویز نے جلدی جلدی کہا۔ "لیکن جب تک ہم اس دنیا میں ہیں ہمیں اس زندگی سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔"
"فائدہ اٹھانے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟" لڑکے نے پوچھا۔
"مطلب یہ ہے کہ تمھیں زندگی کا مزہ لینا چاہیئے۔ مزہ لینا چاہیئے، دوسروں کو تکلیف پہنچائے بغیر۔"
علی بولا:  "عیاشی تو ایسا گڑھا ہے جس کی کوئی تہہ نہیں ہے۔"
"میں ایسی عیاشی کی بات نہیں کررہا ہوں۔ میں تو خوبصورت زندگی کی بات کررہا ہوں۔"
"ساری دنیا میں ہمارے لوگ جبرو استبداد کا شکار ہیں۔" علی نے جواب دیا۔
"میں جانتا ہوں۔" پرویز بولا ۔ حالانکہ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ ہمارے لوگوں سے علی کا کیا مطلب ہے۔" پھر بھی زندگی زندہ رہنے کے لیے ہے۔"
"اس دنیا میں حق اور صداقت کا ایک ہی سچا راستہ ہے۔ ہمیں اس راستے پر چلنا چاہیئے۔ دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں لوگ میرے ہم عقیدہ ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے، آپ سچے ہیں اور وہ سب چھوٹے ہیں؟" اس کے ساتھ ہی علی نے ایسی شعلہ بار نظروں سے پرویز کو دیکھا کہ وہ آگے کچھ نہ بول سکا۔
کئی شاموں کے بعد بیٹینا ایک گاہک کو بھگتانے کے بعد پرویز کے ساتھ کار میں بیٹھی جارہی تھی کہ ایک گلی میں ایک لڑکا نظر آیا۔ وہ پیدل جارہا تھا۔
"وہ ہے میرا بیٹا۔" پرویز نے اپنا چہرہ کرخت کرتے ہوئے کہا۔ وہ شہر کے ایک غریب محلے سے گزر رہے تھے۔ جہاں دو مسجدیں تھیں۔
بیٹینا لڑکے کو دیکھنے مڑی۔ "آہستہ چلو۔ آہستہ چلو۔ لڑکا پیاری شکل کا ہے۔ تم پر گیا ہے لیکن اس کے چہرے پر اعتماد تم سے زیادہ ہے۔ ہم یہاں رُک نہیں سکتے؟"
"کس لیے؟"
"میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔"
پرویز نے کار موڑی اور لڑکے پاس جاکر کھڑی کردی۔
"گھر جارہے ہو؟" پرویز نے پوچھا۔ "کافی فاصلہ ہے۔ آؤ بیٹھ جاؤ۔" لڑکے نے سر جھٹکا اور پیچھے بیٹھ گیا۔ بیٹینا آگے بیٹھی تھی۔ پرویز کو احساس ہوا کہ بیٹینا نے خاصی اونچی اسکرٹ پہنی ہوئی ہے۔ بھڑ کیلی سی انگوٹھیاں بھی اس نے انگلیوں میں ڈال رکھی ہیں اور ہکاہ نیلا آئی شیڈ لگا رکھا ہے۔ اسے بیٹینا کے لباس پر لگی تیز خوشبو کا احساس بھی ہوا جسے وہ بہت پسند کرتا تھا۔ وہ خوشبو پوری کار میں بھر ی ہوئی تھی۔
پرویز تیزی کے ساتھ کار چلا رہا تھا۔ بیٹینا نے لڑکے سے پوچھا۔ "کہاں سے آرہے ہو؟"
"مسجد سے۔" اس نے جواب دیا۔
"اور پڑھائی کیسی ہورہی ہے؟ خوب محنت کررہے ہو نا؟"
"تم کون ہوتی ہو مجھ سے پوچھنے والی؟" علی نے یہ کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ پھر وہ بھیڑ میں پھنس گئے اور کار روک کر کھڑی ہوگئی۔ بیٹینا نے بے خیالی میں پرویز کے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
"تمھارے والد بہت اچھے آدمی ہیں۔ بہت پریشان رہتے ہیں تمھاری وجہ سے۔ وہ اپنی جان سے بھی زیادہ تم سے پیار کرتے ہیں۔"
"اچھا؟ تمھارا خیال ہے یہ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟" لڑکے نے پوچھا۔
"ہاں، بالکل" بیٹینا بولی۔
"تو پھر یہ تم جیسی عورت کو اپنے کندھے پر ہاتھ کیوں رکھنے دے رہے ہیں؟"
بیٹینا نے غصے میں سرخ ہوکر لڑکے کی طرف دیکھا۔ لڑکا طیش میں ابلتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
"مجھ جیسی عورت سے کیا مطلب ہے تمھارا؟ اور تم مجھ سے ایسے بات کیوں کر رہے ہو؟" اس نے کہا۔
"تم جانتی ہو تم کیسی عورت ہو۔" لڑکے نے کہا، اور اپنے باپ کی طرف مڑ کر بولا۔ "مجھے نیچے اتار دیجیئے۔"
"ہر کز نہیں۔"
"تم فکر نہ کرو میں اتر رہی ہوں۔" بیٹینا نے کہا۔
"نہیں۔ تم بھی نہیں اتر سکتیں۔" پرویز بولا۔ لیکن اسی وقت بیٹینا نے چلتی کار سے چھلانگ لگا دی۔ وہ پہلے بھی ایسا کرتی رہی تھی۔ پھر وہ سڑک سے اٹھی اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ پرویز نے کار روک کر اسے بہت آوازیں لگائیں لیکن وہ سڑک کے دوسری طرف جاچکی تھی۔
پرویز علی کو لے کر گھر پہنچا۔ راستے میں وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ گھر پہنچتے ہی علی سیدھا اپنے کرکے میں گھس گیا۔ اب پرویز کے لیے اخبار پڑھنا یا ٹیلی وژن دیکھنا بھی مشکل ہوگیا تھا حتی کہ وہ ایک جگہ بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ شراب پیے جارہا تھا۔
آخر اس سے رہا نہیں گیا اور وہ اوپر چلا گیا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہ علی کے کمرے کے سامنے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا۔ پھر اس نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ علی نماز پڑھ رہا تھا۔
علی کو اس سکون کے ساتھ نماز پڑھتا دیکھ کر پرویز آپے سے باہر ہوگیا۔ اس نے آگے بڑھ کر زور سے ٹھوکر ماری۔ پھر علی کا گریبان پکڑ کر اسے زور سے گھسیٹا اور منھ سے خون بہنے لگا تھا۔   پرویز بھی ہانپ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا اس کے قابو سے باہر نکل چکا ہے، پھر بھی وہ اسے مارتا رہا۔ لڑکا اپنے آپ کو بچانے کی بالکل کوشش نہیں کررہا تھا اور نہ اس کا مقابلہ کررہا تھا۔ وہ خاموشی سے مار کھا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف کا شائبا تک نہیں تھا۔
پھر اس نے اپنے خونم خون ہونٹ کھولے اور بولا۔ "دیکھ لو کون جنونی ہے۔"
Original Title: My Son the fanatic
Written by
Hanif Kureishi, CBE (born 5 December 1954) is a British playwright, screenwriter, filmmaker and novelist of Pakistani and English descent. In 2008, The Times included Kureishi in their list of "The 50 greatest British writers since 1945". (Wikipedia)
نوٹ: حنیف قریشی کے اس افسانے پر 1997ء میں ایک  انگلش مووی    “My Son the fanatic”  بنی۔ جس کا اسکرین پلے بھی حنیف قریشی نے ہی لکھا تھا۔ اس مووی میں پرویز کا کردار مشہور بھارتی اداکار "اوم پوری" نے ادا کیا۔ علی کے کردار کا نام تبدیل کرکے فرید  رکھا گیا۔ یہ فلم باکس آفس پر بہت  کامیاب بھی رہی۔
اس فلم کا ٹریلر دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

Friday, 17 November 2017

افسانہ : آخری فیصلہ تحریر: کارل چوپیک مترجم: ڈاکٹر اعجاز راہی



Read online this short story    
or



افسانہ  : آخری فیصلہ                                                                                                                      

  تحریر: کارل چوپیک                                                                                                                       

مترجم: ڈاکٹر اعجاز راہی  پاکستان                                                                                                              

کگلر  کو خطرناک مجرم قرار دیے جانے کے بعد اس کے کئی وارنٹ، خفیہ اداروں کے لوگ، پولیس
 حتٰی کہ فوج کے جوان بھی اس کا پیچھا کرتے رہے مگر اس کے زندہ وجود تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور جب وہ پکڑا گیا تو زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔ اور آخری قتل اس نے اس پولیس کے سپاہی کا کیا تھا جو اسے گرفتار کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ پولیس کا سپاہی اس کی گولی سے مر تو گیا مگر مرنے سے قبل اس نے اپنے پستول کے چیمبر کی ساتوں گولیاں اس پر داغ دیں۔ ان سات گولیوں میں سے تین پر اس کی موت کی تقدیر لکھ دی گئی تھی۔ کگلر نے جتنی مشکل زندگی گزاری تھی اتنی ہی آسانی سے مر گیا اور مرتے ہوئے اسے اتنی فرصت بھی نہیں ملی کہ وہ ذرا سی تکلیف بھی محسوس کرسکتا۔ تاہم اس کی موت نے زمین پر اس کے ساتھ قانون اور انصاف کے ہونے  والے ڈرامے کا ڈراپ سین بھی کردیا۔
  جب اس کی روح اس کے جسم کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں پہنچی تو وہاں اس کے لیے ہر چیز حیران کردینے والی تھی۔ اب وہ ایک ایسی دنیا میں تھا، جو اس کے تصور خیال اور خلا سے پرے تاحدِ نظر ایک حیران اور اجاڑ پن سے لبریز۔ لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ یہ کوئی بالکل ہی نئی جگہ ہو۔ ایک ایسا شخص جسے جیل میں ڈال دیا گیا ہو اور وہ خیال کرے کہ د و  دنیا میں کتنا فرق ہوتا ہوتا جتنی اس کے خیال کی وسعت تھی، اس سے زیادہ فرق محسوس نہ کرسکا۔ کگلر یہاں بھی محض جدوجہد کرسکتا تھا، کیونکہ اس میں وہی حوصلہ باقی تھا جسے وہ پچھلی دنیا میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا تھا۔ تاہم آخر کار اسے آخری فیصلے کا سامنا کرنا ہی تھا۔ جو اب رفتہ رفتہ اس کے قریب آرہا تھا۔
جنت میں غیر معمولی حالات دکھائی دے رہے تھے۔ اسے تین ججوں کی ایک خصو صی عدالت میں لایا گیا، کیونکہ اس کے جرائم کی نوعیت کے سبب اسے خصوصی عدالت اور ایک بڑی جیوری کے سامنے ہی پیش کیا جانا چاہیئے تھا۔
عدالت کا کمرہ سادہ سا تھا، جیسے کہ دنیا کی عدالتوں کے کمرے ہوتے ہیں۔ صرف ایک فرق تھا کہ دنیا کی عدالتوں کی طرح یہاں دہادت کے لیے قسم کھانے کی ضرورت نہیں تھی اور اس کی وجہ بھی جلد ہی سامنے آنے والی تھی۔

تینوں جج عمر رسیدہ سخت گیر اور بور چہروں والے لوگ تھے۔ کگلر نے معمول کی خانہ پوری کی۔

نام - فرنانڈس کگلر، پیشہ - بے کاری، کب اور کہاں پیدا ہوا، مگر جب وہ موت کے کالم پر پہنچا تو رک گیا۔ کیونکہ اسے اپنی موت کی صحیح تاریخ کا علم نہ تھا۔ لیکن اچانک اسے احساس ہوا جیسے اس کی یہ غلطی ججوں پر اچھا اثر مرتب نہیں کرے گی۔ اسے اپنا حوصلہ پست ہوتا محسوس ہوا۔
"کیا تم اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہو یا انکار۔" کرسیٔ صدارت پر براجمان جج نے گفتگو کا آغاز کیا۔
"میں جرم سے انکار کرتا ہوں۔" کگلر نے جواب دیا۔
"پہلے گواہ کو پیش کیا جائے۔" جج نے کہا۔
کگلر کی مخالف سمت کے دروازے سے ایک شخص اندر داخل ہوا۔ وہ دیکھنے میں نہایت معتبر اور محترم باریش شخص تھا۔ اس کے لباس پر ایک خوبصورت پٹی لگی ہوئی تھی، جس پر ستارے جھلملا رہے تھے۔
اس شخص کے اندر داخل ہوتے ہی تمام ججوں اور جیوری کے اراکین سمیت سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ کگلر بھی قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا۔ جب اس شخص نے اشارہ کیا تو جج اپنی اپنی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئے۔
"محترم گواہ" بڑے جج نے کہنا شروع کیا۔ "اے خداوند ہم نے آپ کو عدالت میں اس لیے آنے کی زحمت دی تاکہ آپ مجرم کگلر کے خلاف گواہی دے سکیں۔ چونکہ آپ حتمی سچائی ہیں، اس لیے آپ کو حلف لینے کی ضرورت نہیں ۔ تاہم اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں اتنا عرض کرنا ہے کہ آپ صرف اس مقدمے سے متعلق حقائق کا اظہار فرمائیں دیگر غیر متعلق جزیات سے گریز ضروری ہے۔۔۔۔ اور کگلر تم گواہی کے دوران مداخلت نہیں کرو گے، کیونکہ محترم گواہ ہر حقیقیت سے پوری طرح آشنا ہیں۔ چنانچہ تمہارا کسی بات سے انکار بے معنی ہوگا۔ اب گواہ سے درخواست ہے کہ وہ اپنا بیان شروع کریں۔"
اتنا کہنے کے بعد صدر جج نے اپنا چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور کرسی سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ گیا جیسے اسے اب ایک طویل گفتگو سننی تھی۔ تینوں ججوں میں سے بزرگ جج نے آنکھیں بند کرلیں اور ریکارڈ کیپر فرشتے نے کگلر کی زندگی کی کتاب کھول لی۔
خداوند نے ہلکا سا کھنکھورا  لیا اور بولنے کیلئے تیار ہوگیا۔
"ہاں کگلر فرنانڈس۔۔۔۔۔۔۔ فرنانڈس کگلر۔۔۔۔ فیکٹری مزدور کا بیٹا ۔۔۔۔۔ ایک بُرا آدمی۔۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔۔ مگر کبھی اس کا اظہار نہیں کرسکا۔ جس کے سبب وہ محرومی اور بے قاعدگی کا شکار ہوتا گیا۔ نوجوان کگلر ۔۔۔ تمارے لیے ہر کوئی ایک تھا۔ ہر ایک کو بے عزت کرسکتے تھے۔ تمہیں یاد ہے ایک بار وکیل کے باغ سے پُھول چرانے پر تمھارے باپ نے سرزنش کرنے کی کوشش کی تو تم نے اس کے انگوٹھے کو زخمی کردیا تھا۔"
"ہاں ۔۔۔۔ وہ پھول میں نے  ارما کے لیے چرایا تھا۔ جو ٹیکس کلکٹر کی خوبصورت بیٹی تھی۔"
"ہاں۔۔ مجھے معلوم ہے۔ ارما اس وقت سات سال کی تھی۔ تمہیں معلوم ہے بعد ازاں اس کے ساتھ کیا بیتی۔۔"
"نہیں مجھے معلوم نہیں۔"
"اس کی شادی ایک فیکٹری مالک کے بیٹے آسکر سے ہوگئی تھی۔ مگر آسکر کے سبب اسے ایک جنسی بیماری کا شکار ہونا پڑا اور وہ بے یارو مددگار فوت ہوگئی۔ تمہیں   روڈی زوردبا   یاد ہے؟"
"ہاں ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ اس کے ساتھ کیا بییر؟" کگلر نے جلدی سے پوچھا۔
"کیوں۔۔۔؟ اس نے نیوی میں ملازمت کرلی اور بعد ازاں ایک حادثے میں ممبئی میں انتقال کرگیا۔ روڈسی تمہارا دوست تھا۔ اور تم دونوں پورے گاؤں کے نہایت بگڑے ہوئے نوجوان تھے۔ کگر دو سال کی عمر سے قبل ہی ایک ماہر چور اور ایک پکا جھوٹا تھا۔ وہ جلد ہی برے لوگوں کی صحبت میں پہنچ گیا۔ مثلاً شرابی گریبل اور ایک کاہل اور بگڑا ہوا بوڑھا کگلر کا دوست تھا اور کگلر اکثر کھانے پینے کی چیزیں اس تک پہنچا تا تھا۔"
صدر جج نے ہاتھ کے اشارے سے استفسار کیا کہ اب غیر متعلق گفتگو کی بجائے اصل بات پر آجایا جائے۔ مگر کگلر نے جلدی سے پوچھا۔
"اور ۔۔۔۔۔ اس کی لڑکی پر کیا بیتی۔۔۔۔۔؟"
"میری ۔۔۔۔؟ اس نے اپنے آپ کو بہت گرا لیا تھا۔ چودہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی اور بیس سال کی عمر میں فوت ہوگئی۔۔۔۔ اس کی موت بڑی عبرت ناک تھی اور مرتے ہوئے وہ تمہیں ہی یاد کررہی تھی۔ مگر تم تو ابھی چودہ سال کے تھے، جب شرابی بن گئے اور آخرکار گھر سے بھاگ لیے۔ تمہارا  باپ اسی دکھ میں انتقال کرگیا۔ تمہاری ماں کی بینائی تمہاری جدائی نے چھین لی۔ تم اپنے خاندان والوں کے لیے نہایت بددیانت ثابت ہوئے۔ تمہاری بے چاری بہن مارتھا  اب تک کنواری ہے۔ بھلا کون ایک چور کے گھر رشتہ مانگنے آئے گا۔ وہ اپنی عسرت بھری زندگی کو چلالنے کے لیے لوگوں کے کپڑے سیتی ہے۔"
"وہ ٹھیک اس وقت کیا کررہی ہے؟"
"اس وقت وہ وولف کی دکان سے دھاگہ خرید رہی ہے۔ کیا تمہیں وہ دکان یاد ہے؟ جب تم چھ برس کے تھے تو تم نے ماربل کا ایک رنگین کھلونا خریدا تھا۔ جو اسی روز تم سے گم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد تم وہ کبھی خرید نہیں سکے مگر اس کے لیے تم کس قدر روئے تھے۔۔۔۔۔"
"وہ کہاں چلا گیا تھا۔۔۔۔ کون لے گیا ۔۔۔۔؟"
"وہ لڑھکتا ہوا گٹر میں جاگرا تھا اور آج تیس سال گزر جانے کے باوجود اب تک وہیں پڑا ہے۔ اس وقت بارش ہورہی ہے اور تمہارا ماربل کا خوبصورت کھلونا ٹھنڈے پانی میں بھیگ رہا ہے۔"
کگلر نے ہلکے سے سر کو ہلایا جیسے وہ ماضی کے جھمیلے سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔ اسی لمحے صدر جج نے اپنی عینک دوبارہ پہن لی اور گواہ سے نہایت نرم لہجے میں بولا۔
"جناب ہم ممنون ہوں گے اگر آپ اصل کیس کی طرف واپس آئیں، کیا اس نے واقعی قتل کیے ہیں۔۔۔۔۔؟"
گواہ نے سر ہلایا اور بولنا شروع کیا۔
"اس نے نو انسانوں کو قتل کیا ہے۔ پہلا قتل اس نے ایک جھگڑے میں کیا اور اس جرم کی پاداش میں جب جیل گیا، تو مکمل طور پر ایک بُرا انسان بَن چکا تھا۔ دوسرا قتل اس نے اپنی ایک بے وفا دوست کا کیا، جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی مگر یہ جیل سے فرار ہوگیا۔ تیسرا مقتول ایک بوڑھا آدمی تھا جس کو یہ لوٹنا چاہتا تھا اور چوتھا ایک چوکیدار۔"
"کیا وہ بھی مرگیا تھا۔۔۔۔"
"ہاں۔ وہ تیسرے دن مرا تھا، مگر یہ تین دن اس کے لیے بڑے عذاب کے تھے۔"
خداوند نے کہا "اس نے اپنے پیچھے چھ بچے چھوڑے تھے۔ پانچواں اور چھٹا قتل اس نے ایک جوڑے کا کیا تھا، مگر ان کی جیب سے صرف سولہ ڈالر نکلے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ انہوں نے بیس ہزار ڈالر چھپا رکھے تھے۔"
کگلر ایک دم اچھل پڑا۔
"کہاں ۔۔۔۔۔۔۔؟"
پیال کی چٹائی کے نیچے۔۔۔۔ ریشمی کپڑے کی تھیلی میں، جو پیال سے بنی چٹائی کے نیچے رکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ رقم نہایت کنولسی سے پائی پائی کرکے جمع کی تھی۔۔۔۔ ساتواں قتل اس نے امریکہ میں جس شخص کا کیا، وہ غریب ایک تارک وطن تھا۔"
"تو انہوں نے یہ رقم چٹائی کے نیچے چھپا کر رکھی تھی۔" کگلر بڑبڑایا۔
"ہاں۔۔۔۔۔ "خداوند نے کہا اور اپنی بات جاری رکھی۔ "آٹھواں قتل اس نے اس وقت کیا، جب یہ پولیس سے چھپتے ہوئے بھاگ رہا تھا اور وہ شخص اس کے راستے میں آگیا۔ اس زمانے میں کگلر ہڈیوں کے مرض میں مبتلا تھا اور اسے اس وقت شدید تکلیف تھی۔ نوجوان۔۔۔۔۔ اس وقت تم شدید تکلیف میں تھے اور ۔۔۔۔۔۔۔ نواں قتل کگلر نے اس پولیس والے کا کیا، جس نے مرتے مرتے اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔۔۔۔"
ـآخر یہ قتل کیوں کرتا رہا؟" صدر جج نے پوچھا۔
"وہی اسباب ہیں، جس پر دوسرے قتل ہوئے۔ غصے میں یا پیسوں کے لیے۔ جان بوجھ کر بھی اور حادثاتی طور پر بھی۔۔۔۔۔ کچھ تسکین خاطر کے لیے۔۔ کچھ ضرورتاً ۔۔۔۔ بہرحال یہ ایک اچھا آدمی بھی تھا۔ مددگار۔۔۔۔ خصوصاً عورتوں پر بہت مہربان بھی رہا۔ جانوروں سے پیار کرنے والا اور بات کا پکا تھا۔ کیا میں اس کی اچھائیاں بھی بیان کروں۔۔۔۔؟"
"نہیں شکریہ ۔۔۔۔۔ وہ غیر متعلق ہوگا۔" صدر جج نے کہا۔ "کیا مجرم اپنے دفاع میں خود بھی کچھ کہنا چاہتا ہے۔"
"نہیں۔۔۔ " کگلر کا جواب تھا۔

"اب عدالت کے جج فیصلے کے لیے آپس میں صلاح و مشورہ کریں گے۔" صدر جج نے اعلان کیا اور تینوں جج اٹھ کر چلے گئے۔ اب کمرہ عدالت میں خداوند اور کگلر رہ گئے تھے۔
"یہ لوگ کون تھے۔۔۔۔۔" کگلر نے پوچھا۔
"تمہاری طرح انسان " خداوند کا جواب تھا۔ "یہ لوگ زمین پر بھی جج تھے۔ چنانچہ یہاں بھی جج بنا دیئے گئے ہیں۔"
"مجھے توقع نہیں تھی۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ تاہم میرا خیال ہے آپ کو جج ہونا چاہیئے کیونکہ ۔۔۔۔۔"
"کیونکہ میں خداوند ہوں۔" خداوند نے بات کو نرمی سے جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "میرے نزدیک یہ انصاف کا تقاضا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں میں ہر چیز کو جانتا ہوں۔ اس لیے میرے لیے کسی جرم کا انصاف کرنا ممکن نہیں۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ تم ادھر کیسے آئے تھے؟
"نہیں مجھے معلوم نہیں۔۔۔۔" کگلر نے حیرت سے دیکھا۔
"لکی۔۔۔۔ ویٹرس۔۔۔۔۔ جس نے حسد کے سبب مخبری کی۔"
"معاف کیجیئے۔۔۔۔ آپ ٹیڈی کو بھول گئے، جسے میں نے شکاگو میں گولی ماری تھی۔"
"نہیں بالکل نہیں۔۔۔ وہ ٹھیک ہوگیا تھا اور اب بھی زندہ ہے مجھے معلوم ہے۔ وہ ایک مخبر ہے مگر عام طور پر وہ ایک اچھا انسان بھی ہے اور بچوں سے بڑی محبت کرتا ہے۔ تم کسی شخص کو مکمل طور پر برا نہیں کہہ سکتے۔"
"لیکن ۔۔۔۔۔ میں اب تک نہیں سمجھ سکا کہ آپ خود جج کیوں نہیں۔" کگلر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"کیونکہ میرا علم لامحدود ہے۔ میں ہر بات کو جانتا ہوں۔ اگر ایک جج کو ہر چیز کا علم ہو جانے اور ہر بات کو سمجھنے لگے، تو اس کے دل میں نرم گوشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ صحیح انصاف نہیں کرسکتا۔ بالکل اسی طرح میں بھی ہوں۔ وہ صرف تمہارے جرائم کے بارے میں جانتے ہیں۔ لیکن میں ہر چیز سے واقف ہوں۔ کگلر کو مکمل طور پر جانتا ہوں۔ اس کے جرائم کو بھی اور جرائم کے اسباب کو بھی ۔۔۔۔۔ چنانچہ اسی لیے میں انصاف نہیں کرسکتا۔۔۔۔"
"پھر وہ لوگ جج کیوں ہیں۔۔۔ جبکہ زمین پر بھی وہی لوگ جج تھے۔۔۔۔"
"اس لیے کہ انسان کا انسان سے تعلق ہے۔ تم نے دیکھا۔۔۔ میں تو صرف گواہ تھا اور فیصلہ خود انسان کریں گے۔ جنت میں بھی یہی لوگ ہیں۔۔۔۔ یقین کرو۔۔۔۔۔ انصاف کا یہی ایک طریقہ ہے۔ انسان خدا کے فیصلے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ وہ اسی قابل ہے کہ اس پر انسان ہی فیصلے صادر کرتا رہے۔"
عین اس وقت تینوں جج واپس آگئے اور اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ صدر جج نے گونجدار آواز میں بولنا شروع کیا۔
"مسلسل قتل عمد، ڈاکہ زنی، قانون کی خلاف ورزی، غیر قانونی اسلحہ کی نمائش اور گلاب کا ایک پھول چوری کرنے کے جرم میں کگلر فرنانڈس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دینے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ سزا کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔۔۔۔"
"اگلا مقدمہ۔۔۔۔ ٹورنس فرینک۔۔۔۔۔"
"ملزم حاضر عدالت ہے جناب۔۔۔۔۔۔"

English Title: The Last Judgment 
Written by:
Karel Čapek (9 January 1890 – 25 December 1938) was a Czech writer of the early 20th century. He had multiple roles throughout his career, including playwright, dramatist, essayist, publisher, literary reviewer, photographer and art critic.

Thursday, 16 November 2017

افسانہ ۔۔ انجان

                                                                      

                                                         Download in pdf
                                                                  or 
                                                            read online 

                                                                           افسانہ  ۔۔   انجان 


تحریر: موہن راکیش (ہندستان

ہندی سے اردو ترجمہ: عامر صدیقی (کراچی ، پاکستان

دھند کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشے دھندلے پڑ گئے تھے۔ گاڑی چالیس کی رفتار سے سنسان اندھیرے کو چیرتی چلی جا رہی تھی۔ کھڑکی سے سر ٹکاکر بھی باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ پھر بھی میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کبھی کسی درخت کی ہلکی یا گہری شبیہہ ہی گزرتی نظر آ جاتی تو کچھ دیکھ لینے کاساا طمینان ہوتا۔ دل کو الجھائے رکھنے کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔ آنکھوں میں ذرابھی نیند نہیں تھی۔ گاڑی کو جانے کتنی دیر بعد کہیں جاکر رکنا تھا۔ جب اور کچھ دکھائی نہ دیتا، تو اپنا سایہ تو کم از کم دیکھا ہی جا سکتا تھا۔ اپنے سائے کے علاوہ اور بھی بہت سے سائے تھے۔ 
 اوپر کی برتھ پر سوئے شخص کا سایا عجب بے بسی کے ساتھ ہل رہا تھا۔ سامنے کی برتھ پر بیٹھی عورت کا سایہ بہت اداس تھا۔ اس کی
 مخمور پلکیں لمحے بھر کیلئے اوپر اٹھتیں، پھر جھک جاتیں۔ سایوں کے علاوہ کئی بار نئی نئی آوازیں بھی دھیان بھٹکادیتیں، جن سے پتہ چلتا کہ گاڑی پل پر سے جا رہی ہے یا مکانوں کی قطار کے پاس سے گزر رہی ہے۔ اسی دوران اچانک انجن کی چیخ سنائی دے جاتی، جس سے اندھیرا اور اکیلا پن مزید گہرے ہوتے محسوس ہونے لگتے۔
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ سوا گیارہ بجے تھے۔ سامنے بیٹھی عورت کی آنکھیں بہت ویران تھیں۔ بیچ بیچ میں ان میں ایک لہر سی اٹھتی اور معدوم ہو جاتی۔ وہ آنکھوں سے جیسے دیکھ نہیں رہی تھی، سوچ رہی تھی۔ 
 اس کی بچی، جسے فر کے کمبلوں میں سلایا گیا تھا، ذرا ذرا سا کسمسانے لگی۔ اس کی گلابی ٹوپی سر سے اتر گئی تھی۔ اس نے دو ایک بار پاؤں پٹخے،اپنی بندھی ہوئی مٹھیاں اوپر اٹھائیں اور رونے لگی۔ عورت کی سنسان آنکھیں اچانک امڈ آئیں۔ اس نے بچی کے سر پر ٹوپی ٹھیک کر دی اور اسے کمبلوں سمیت اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔
  مگر اس سے بچی کا رونا بند نہیں ہوا۔ اس نے اسے ہلا کر اور دلارکر چپ کرانا چاہا، مگر وہ پھر بھی روتی رہی۔ اس پر اس نے کمبل تھوڑا ہٹا کر بچی کے منہ میں دودھ دے دیا اور اسے اچھی طرح اپنے ساتھ چپکا لیا۔
  میں پھر کھڑکی سے سر ٹکاکر باہر دیکھنے لگا۔ دور روشنیوں کی ایک قطار نظر آ رہی تھی۔ شاید کوئی آبادی تھی، یا صرف سڑک ہی تھی۔ گاڑی تیز رفتاری سے چل رہی تھی اور انجن بہت قریب ہونے سے دھند کے ساتھ دھواں بھی کھڑکی کے شیشوں پر جمتا جا رہا تھا۔ آبادی 
 یاسڑک، جو بھی وہ تھی، اب آہستہ آہستہ پیچھے چھٹتی جا رہی تھی۔ شیشے میں دکھائی دینے والے سائے پہلے سے مزید گہرے ہو گئے تھے۔ عورت کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور اوپر لیٹے شخص کا بازو زور زور سے ہل رہا تھا۔ شیشے پر میری سانس کے پھیلنے سے سائے مزید دھندلے ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ سبھی سائے چھپ گئے۔ میں نے تب جیب سے رومال نکال کر شیشے کو اچھی طرح پونچھ دیا۔
  عورت نے آنکھیں کھول لی تھیں اور ایک ٹک سامنے دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی لکیر پھیلی تھی جو ٹھیک سے مسکراہٹ نہیں تھی۔ مسکراہٹ کے بہت مدہم اظہار کو ظاہر کرتی اس لکیر میں کہیں سنجیدگی بھی تھی اور یاسیت بھی۔ جیسے وہ اچانک ابھر آئی کسی یاد کی لکیر تھی۔ اس کی پیشانی پر ہلکاسا بل پڑ گیا تھا۔  
  بچی جلد ہی دودھ سے ہٹ گئی۔ اس نے سر اٹھا کر اپنا بغیر دانتوں والا منہ کھول دیا اور کلکاری بھرتی ہوئی ماں کے سینے پر مٹھیوں سے چوٹ کرنے لگی۔ دوسری طرف سے آتی ایک گاڑی تیزی سے پاس سے گزری ،تو وہ ذرا سہم گئی، مگر گاڑی کے نکلتے ہی اور زیادہ منہ کھول کر کلکاری بھرنے لگی۔ بچی کا چہرہ گدرایا ہوا تھا اور اس کی ٹوپی کے نیچے سے بھورے رنگ کے ہلکے ہلکے بال نظر آ رہے تھے۔ اس کی ناک ذرا چھوٹی تھی، پر آنکھیں ماں کی ہی طرح گہری اور پھیلی ہوئی تھیں۔ ماں کے گال اور کپڑے نوچ کر اس کی آنکھیں میری طرف گھوم گئیں اور وہ بانہیں ہوا میں پٹختی ہوئی مجھے اپنی کلکاریوں کا نشانہ بنانے لگی۔
  عورت کی پلکیں اٹھیں اور اسکی اداس آنکھیں لمحے بھرکو میری آنکھوں سے ملی رہیں۔ مجھے اس لمحے بھر کیلئے لگا کہ میں ایک ایسے افق کو دیکھ رہا ہوں، جس میں گہری سانجھ کے سبھی ہلکے گہرے رنگ جھلملا
 رہے ہیں اور جس کا نظارہ لمحے کے ہر سوویں حصے میں بدلتا جا رہا ہے۔
بچی میری طرف دیکھ کر بہت ہاتھ پٹخ رہی تھی، اس لئے میں نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیے اور کہا، “آ بیٹے، آ۔۔۔
میرے ہاتھ پاس آ جانے سے بچی کے ہاتھوں کا ہلنا بند ہو گیا اور اس کے ہونٹ روہانسے ہوگئے۔
  عورت نے بچی کو اپنے ہونٹوں سے چھوا اور کہا، “جا بٹو، جائے گی ان کے پاس؟
  لیکن بٹو کے ہونٹ مزید روہانسے ہوگئے اور وہ ماں کے ساتھ چپک گئی۔
  “غیر آدمی سے ڈرتی ہے،” میں نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ ہٹا لئے۔
  عورت کے ہونٹ بھینچ گئے اور پیشانی کی کھال میں کھنچاؤ آ گیا۔ اس کی آنکھیں جیسے ماضی میں چلی گئیں۔ پھر اچانک وہاں سے لوٹ آئیں اور وہ بولی، “نہیں، ڈرتی نہیں۔ اسے دراصل عادت نہیں ہے۔ یہ آج تک یا تو میرے
 ہاتھوں میں رہی ہے یا نوکرانی کے ۔۔۔ “اور وہ اس کے سر پر جھک گئی۔ بچی اس کے ساتھ چپک کر آنکھیں جھپکنے لگی۔عورت اسے ہلاتی ہوئی تھپکیاں دینے لگی۔ بچی نے آنکھیں موند لیں۔ جیسے چومنے کیلئے ہونٹ بڑھائے ہوں، اس حالت میں عورت اس کی طرف دیکھتی ہوئی، اسے تھپکیاں دیتی رہی۔ پھر اچانک اس نے جھک کر اسے چوم لیا۔
بہت اچھی ہے ہماری بٹو، جھٹ سے سو جاتی ہے۔” یہ اس نے جیسے خود سے کہا اور میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک اداس بھرا جوش بھر رہا تھا۔
  “کتنی بڑی ہے یہ بچی؟” میں نے پوچھا۔
  “دس دن بعد پورے چار مہینے کی ہو جائے گی،” وہ بولی، “پر دیکھنے میں ابھی اس سے چھوٹی لگتی ہے۔ نہیں؟ "
میں نے آنکھوں سے اس کی بات کی حمایت کی۔ اس کے چہرے میں ایک اپنی ہی نوعیت کی نرمی تھی، اعتماد اور سادگی کی۔ میں نے
 سوئی ہوئی بچی کے گال کو ذرا سا سہلا دیا۔ عورت کا چہرہ اورجذباتی ہو گیا
  “لگتا ہے آپ کو بچوں سے بہت محبت ہے،” وہ بولی، “آپ کے کتنے بچے ہیں؟
میری آنکھیں اس کے چہرے سے ہٹ گئیں۔ بجلی کی بتی کے پاس ایک کیڑا اڑ رہا تھا۔
  “میرے؟” میں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا،”ابھی تو کوئی نہیں ہے، مگر۔۔۔
  “مطلب بیاہ ہوا ہے، ابھی بچے وچے نہیں ہوئے،” وہ مسکرائی، “آپ مرد لوگ تو بچوں سے بچے ہی رہنا چاہتے ہیں نہ؟
  میں نے ہونٹ سکوڑ لیے اور کہا،”نہیں، یہ بات نہیں۔۔۔
  “ہمارے یہ تو بچی کو چھوتے بھی نہیں،” وہ بولی،”کبھی دو منٹ کیلئے بھی اٹھانا پڑ جائے تو جھلانے لگتے ہیں۔ اب تو خیر وہ اس مصیبت سے چھوٹ کر باہر ہی چلے گئے ہیں۔ “ اور اچانک اس کی آنکھوں چھلچھلاگئیں۔ رونے کی وجہ سے اسکے ہونٹ بالکل اس بچی کی طرح ہو گئے
 تھے۔ پھر اچانک اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ لوٹ آئی،جیسا اکثر سوئے ہوئے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس نے آنکھیں جھپکاکر خودکو پرسکون کیا اور بولی،"وہ ڈاکٹریٹ کیلئے انگلینڈ گئے ہیں۔ میں انہیں بمبئی میں جہاز پر چڑھا کر آ رہی ہوں۔۔۔ویسے چھ آٹھ ماہ کی بات ہے۔ پھر میں بھی ان کے پاس چلی جاؤں گی۔ "
پھر اس نے ایسی نظر سے مجھے دیکھا، جیسے اسے شکایت ہو کہ میں نے اس کی اتنی ذاتی بات اس سے کیوں جان لی!
آپ بعد میں اکیلی جائیں گی؟” میں نے پوچھا،"اس سے تو آپ ابھی ساتھ چلی جاتیں۔۔۔
اس کے ہونٹ سکڑ گئے اور آنکھیں پھر ویران ہوگئیں۔ وہ کئی لمحے خود میں ڈوبی رہی اور اسی انداز سے بولی، “ساتھ تو نہیں جا سکتی تھی، کیونکہ اکیلے ان کے جانے کا بھی کوئی خاص ذریعہ نہیں تھا۔ لیکن انہیں میں نے کسی طرح بھیج دیا ہے۔ چاہتی تھی کہ ان کی کوئی
 تو خواہش مجھ سے پوری ہو جائے ۔۔۔دیشی کی باہر جانے کی بہت خواہش تھی ۔۔۔ابھی چھ آٹھ مہینوں میں اپنی تنخواہ میں سے کچھ پیسہ بچاؤں گی اور تھوڑا بہت کہیں سے  ادھار لے کر اپنے جانے کا انتظام کروں گی۔
  اس نے سوچوں میں ڈوبتی اتراتی اپنی آنکھوں کو اچانک ہوشیار کر لیا اور پھر کچھ لمحے شکایت بھری نظروں سے مجھے دیکھتی رہی۔ پھر بولی،”ابھی بٹو بھی بہت چھوٹی ہے نہ؟ چھ آٹھ مہینوں میں یہ بڑی ہو جائے گی اور میں بھی اس وقت تک تھوڑا سا پڑھ لوں گی۔ دیشی کی بہت خواہش ہے کہ میں ایم اے کر لوں۔ مگر میں ایسی گھامڑ اور ناکارہ ہوں کہ ان کی کوئی بھی خواہش پوری نہیں کر پاتی۔ اسی لیے اس بار انہیں بھیجنے کیلئے میں نے اپنے تمام گہنے بیچ دیئے ہیں۔ اب میرے پاس بس میری بٹو ہے، اور کچھ نہیں۔ “ اور وہ بچی کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی، بھری بھری نظر سے اسے دیکھتی رہی۔
  باہر وہی سنسان اندھیرا تھا، وہی مسلسل سنائی دیتی انجن کی پھک پھک۔ شیشے سے آنکھ گڑا لینے پر بھی دور تک ویرانگی ہی ویرانگی نظر آتی تھی۔
  مگر اس عورت کی آنکھوں میں جیسے دنیا بھر کی شفقت سمٹ آئی تھی۔ وہ پھر کئی لمحے خود میں ڈوبی رہی۔ پھر اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بچی کو اچھی طرح کمبلوں میں لپیٹ کر سیٹ پر لٹا دیا۔
  اوپر کی برتھ پر لیٹا ہوا آدمی خراٹے بھر رہا تھا۔ ایک بار کروٹ بدلتے ہوئے وہ نیچے گرنے کو ہوا، پر اچانک ہڑبڑاکر سنبھل گیا۔ پھر کچھ ہی دیر میں وہ اور زور سے خراٹے بھرنے لگا۔
  “لوگوں کو جانے سفر میں کیسے اتنی گہری نیند آ جاتی ہے!” وہ عورت بولی، “مجھے دو دو راتیں سفر کرنا ہو، تو بھی میں ایک پل کو نہیں سو پاتی۔ اپنی اپنی عادت ہوتی ہے! “
  “ہاں، عادت کی ہی بات ہے،” میں نے کہا، “کچھ لوگ بہت بے فکرہو کر جیتے ہیں اور کچھ ہوتے
 ہیں کہ۔۔۔
  “بغیر فکر کئے جی ہی نہیں سکتے!” اور وہ ہنس دی۔ اسکی ہنسی کا انداز بھی بچوں جیسا ہی تھا۔ اس کے دانت بہت چھوٹے چھوٹے اور چمکیلے تھے۔ میں نے بھی اس کی ہنسی میں ساتھ دیا۔
میری بہت خراب عادت ہے،” وہ بولی،"میں بات بے بات کے سوچتی رہتی ہوں۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ میں سوچ سوچ کر پاگل ہو جاؤں گی۔ یہ مجھ سے کہتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے ملنا جلنا چاہئے، کھل کر ہنسنا، بات کرنا چاہئے، مگر ان کے سامنے میں ایسے گم صم ہو جاتی ہوں کہ کیا کہوں؟ ویسے دوسرے لوگوں سے بھی میں زیادہ بات نہیں کرتی، لیکن ان کے سامنے تو خاموشی ایسی چھا جاتی ہے، جیسے منہ میں زبان ہو ہی نہیں۔۔۔اب دیکھئے نہ، اس وقت کس طرح کتر کتر بات کر رہی ہوں! "  اور وہ مسکرائی۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی ہچکچاہٹ کی لکیرآ گئی۔
راستہ کاٹنے کیلئے بات کرنا ضروری ہو جاتا ہے،” میں نے کہا، “خاص طور سے جب نیند نہ آ رہی ہو۔
اس کی آنکھیں پل بھر پھیلی رہیں۔ پھر وہ گردن ذرا جھکا کر بولی،”یہ کہتے ہیں کہ جس کے منہ میں زبان ہی نہ ہو، اس کے ساتھ پوری زندگی کیسے کاٹی جا سکتی ہے؟ ایسے انسان میں اور ایک پالتو جانور میں کیا فرق ہے؟ میں ہزار چاہتی ہوں کہ انہیں خوش دکھائی دوں اور ان کے سامنے کوئی نہ کوئی بات کرتی رہوں، لیکن میری ساری کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ انہیں پھر غصہ آ جاتا ہے اور میں رو دیتی ہوں۔ انہیں میرا رونا بہت برا لگتا ہے۔ “ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، جنہیں اس نے اپنی ساڑی کے پلو سے پونچھ لیا۔
  “میں بہت پاگل ہوں،” وہ پھر بولی،”یہ جتنا مجھے ٹوکتے ہیں، میں اتنا ہی زیادہ روتی ہوں۔ دراصل یہ مجھے سمجھ نہیں پاتے۔ مجھے بات کرنا اچھا نہیں لگتا، پھر جانے کیوں یہ مجھے
 بات کرنے پر مجبور کرتے ہیں؟ “ اور پھر پیشانی کو ہاتھ سے دبا کر ہوئے گویا ہوئی،”آپ بھی اپنی بیوی سے زبردستی بات کرنے کیلئے کہتے ہیں؟
  میں نے پیچھے ٹیک لگا کر کندھے سکوڑ لیے اور ہاتھ بغلوں میں دبائے بتی کے پاس اڑتے کیڑے کو دیکھنے لگا۔ پھر سر کو ذرا سا جھٹک کر میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
میں؟” میں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، “مجھے یہ کہنے کا کبھی موقع ہی نہیں مل پاتا ہے۔ میں بلکہ پانچ سال سے یہ چاہ رہا ہوں کہ وہ ذرا کم بات کیا کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی بار انسان چپ رہ کر زیادہ بات کہہ سکتا ہے۔ زبان سے کہی بات میں وہ رس نہیں ہوتا، جو آنکھ کی چمک سے یا ہونٹوں کے اشارے یا پیشانی کی ایک لکیر سے کہی گئی بات میں ہوتا ہے۔ میں جب اسے یہ سمجھانا چاہتا ہوں، تو وہ مجھے مزیدتفصیل سے بتا دیتی ہے کہ زیادہ
 بات کرنا انسان کے خلوص کا ثبوت ہے اور میں اتنے سالوں میں اپنے تئیں اس احساس کو سمجھ ہی نہیں سکا! وہ دراصل کالج میں لیکچرار ہے اور اپنی عادت کی وجہ سے گھر میں بھی لیکچر دیتی رہتی ہے۔
  “اوہ!” وہ تھوڑی دیر دونوں ہاتھوں میں اپنا منہ چھپائے رہی۔ پھر بولی، “ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے دیشی سے یہی شکایت ہے کہ وہ میری بات نہیں سمجھ پاتے۔ میں کئی بار ان کے بالوں میں اپنی انگلیاں الجھاکر ان سے بات کرنا چاہتی ہوں، کئی بار ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر مند آنکھوں سے ان سے کتنا کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ لیکن انہیں یہ سب اچھا نہیں لگتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب گڑیوں کا کھیل ہے، اس کی بیوی کو جیتا جاگتا انسان ہونا چاہئے۔ اور میں انسان بننے کی بہت کوشش کرتی ہوں، لیکن نہیں بن پاتی، کبھی نہیں بن پاتی۔ انہیں میری کوئی عادت اچھی نہیں لگتی۔ میرا دل چاہتا ہے کہ چاندنی رات
 میں کھیتوں میں گھوموں، یا دریا میں پاؤں ڈال کر گھنٹوں بیٹھی رہوں، مگر یہ کہتے ہیں کہ یہ سب پاگل دل کے چکر ہیں۔ انہیں کلب، سنگیت کی محفلیں اور ڈنر پارٹیاں اچھی لگتی ہیں۔ میں ان کے ساتھ وہاں جاتی ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ مجھے وہاں ذرا اپنا پن محسوس نہیں ہوتا۔ یہ کہتے ہیں کہ تو پچھلے جنم میں مینڈکی تھی جو تجھے کلب میں بیٹھنے کی بجائے کھیتوں میں مینڈکوں کی آوازیں سننا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ میں کہتی ہوں کہ میں اس جنم میں بھی مینڈکی ہوں۔ مجھے برسات میں بھیگنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اور بھیگ کر میرا دل کچھ نہ کچھ گنگنانے کو کہنے لگتا ہے،حالانکہ مجھے گانا نہیں آتا۔ مجھے کلب میں سگریٹ کے دھوئیں میں گھٹ کر بیٹھے رہنا نہیں اچھا لگتا۔ وہاں میری جان حلق کو آنے لگتی ہے۔ "
  اس تھوڑے سے وقت میں ہی مجھے اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ کافی مانوس سا لگنے لگا
 تھا۔ اس کی بات سنتے ہوئے میرے دل پر ہلکی سی اداسی چھانے لگی تھی، حالانکہ میں جانتا تھا کہ وہ کوئی بھی بات مجھ سے نہیں کہہ رہی، وہ خودسے بات کرنا چاہتی ہے اور میری موجودگی اس کیلئے صرف ایک بہانہ ہے۔ میری اداسی بھی اس کیلئے نہیں تھی بلکہ اپنے لئے تھی، کیونکہ اس سے بات کرتے ہوئے بھی بنیادی طور پر میں سوچ اپنے بارے میں رہا تھا۔ میں پانچ سال سے منزل درمنزل شادی شدہ زندگی سے گزرتا آ رہا تھا، روز یہی سوچتے ہوئے کہ شاید آنے والا کل، زندگی کے اس ڈھانچے کو بدل دے گا۔سطح پر ہر چیز ٹھیک تھی، کہیں کچھ غلط نہیں تھا، مگر سطح سے نیچے زندگی کتنی الجھنوں اور گانٹھوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے شادی کے اولین دنوں میں ہی جان لیا تھا کہ نلینی مجھ سے شادی کرکے خوش نہیں ہو سکی، کیونکہ میں اس کی کوئی بھی دلی تمنا پوری کرنے میں اسکا معاون ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک بھرا پرا گھر چاہتی تھی، جس میں اس کا راج ہو اور ایسی سماجی زندگی بھی جس میں اسے افضلیت کا درجہ حاصل ہو۔ وہ خودسے الگ اپنے شوہر کی ذہنی زندگی کا تصور نہیں کرتی تھی۔ اسے میری بھٹکنے کی جبلّت اور سادگی سے محبت، ذہنی انتشار لگتے تھے، جنہیں وہ اپنے زیادہ مفید فلسفہ ہائے زندگی سے دور کرنا چاہتی تھی۔ اس نے اس اعتماد کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کی تھی کہ وہ میری غلطیوں کی تلافی کرتی ہوئی، بہت جلد مجھے سماجی نقطہ نظر سے کامیاب انسان بننے کی سمت میں لے جائے گی۔ اس کی نظر میں یہ میرے شعائر کی غلطی تھی، جو میں خود میں اتنا گم رہتا تھا اور ادھر ادھر مل جل کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ وہ اس حالت میں بہتری لاناچاہتی تھی، پر صورتِ حال سدھرنے کے بجائے بگڑتی گئی تھی۔ وہ جو کچھ چاہتی تھی، وہ میں نہیں کر پاتا تھا اور جو کچھ میں چاہتا تھا، وہ اس سے نہیں ہوتا تھا۔ اس سے ہم میں اکثر توتو میں میں ہونے لگتی تھی اور کئی بار دیواروں سے سر ٹکرانے کی نوبت بھی آ جاتی تھی۔ مگر یہ سب ہو چکنے پر نلینی بہت جلد نارمل ہو جاتی تھی اور اسے پھر مجھ سے یہ شکایت ہوتی تھی کہ میں دو دو دن خود کو ان عام سی باتوں کے اثرات سے آزاد کیوں نہیں کر پاتا۔ مگر میں دو دن میں تو کیا، کبھی بھی ان باتوں کے اثرات سے آزاد نہیں ہوپاتا تھا اور رات کو جب وہ سو جاتی تھی، تو گھنٹوں تکیے میں منہ چھپائے کراہتا رہتا تھا۔ نلینی باہمی جھگڑے کو اتنا غیر فطری نہیں سمجھتی تھی، جتنا میرے رات بھر جاگتے کو اور اس کیلئے مجھے نرَو ٹانک لینے کا مشورہ دیا کرتی تھی۔ شادی کے پہلے دو سال اسی طرح گزرے تھے اور اس کے بعد ہم الگ الگ جگہ کام کرنے لگے تھے۔ حالانکہ مسئلہ جوں کا توں بنا رہا تھا اور جب بھی ہم اکٹھے ہوتے، وہی پرانی زندگی لوٹ آتی تھی، پھر بھی نلینی کا یہ یقین اب بھی کم نہیں ہوا تھا کہ کبھی نہ کبھی میرے سماجی خیالات کو عروج ضرور حاصل ہوگا اور پھر ہم ایک ساتھ رہ کر خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر سکیں گے۔
  “آپ کو کچھ سوچ رہے ہیں؟” اس عورت نے اپنی بچی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
  میں نے اچانک خود کو یکجا کیا اور کہا،” ہاں، میں آپ ہی کی بات کے متعلق سوچ رہا تھا۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں، جنہیں بناوٹی رکھ رکھاؤ آسانی سے نہیں اوڑھا جاتا۔ آپ بھی شاید انہی لوگوں میں سے ہیں۔ "
  “میں نہیں جانتی۔” وہ بولی،"مگر اتنا جانتی ہوں کہ میں بہت سے جان پہچان کے لوگوں کے درمیان خود کو انجان، بیگانی اوربے جوڑ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں ہی کچھ کمی ہے۔ میں اتنی بڑی ہوکر بھی وہ کچھ نہیں سمجھ پائی، جو لوگ بچپن میں ہی سیکھ جاتے ہیں۔ دیشی کا کہنا ہے کہ میں سماجی طور پر بالکل مس فٹ ہوں۔"
  “آپ بھی یہی سمجھتی ہیں؟” میں نے پوچھا۔
  “کبھی سمجھتی ہوں، کبھی نہیں بھی سمجھتی۔” وہ بولی، “ایک خاص طرح کے معاشرے میں ،میں ضرور خودکو مس فٹ محسوس کرتی ہوں۔ مگرکچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے درمیان جاکر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ بیاہ سے پہلے میں دو ایک بار کالج کی پارٹیوں کے ساتھ پہاڑوں پر گھومنے گئی تھی۔ وہاں سب لوگوں کو مجھ سے یہی شکایت ہوتی تھی کہ میں جہاں بیٹھ جاتی ہوں، وہیں کی ہوجاتی ہوں۔ مجھے پہاڑی بچے بہت اچھے لگتے تھے۔ میں ان کے گھر کے افرادسے بھی بہت جلد دوستی کر لیتی تھی۔ ایک پہاڑی خاندان کی مجھے آج تک یاد تازہ ہے۔ اس خاندان کے بچے مجھ سے اتنا گھل مل گئے تھے کہ میں بڑی مشکل سے انہیں چھوڑکر انکے یہاں سے چل پائی تھی۔ میں کل دو گھنٹے ان لوگوں کے پاس رہی تھی۔ دو گھنٹے میں میں نے انہیں نہلایادھلایا بھی اور ان کے ساتھ کھیلتی بھی رہی۔ بہت ہی اچھے بچے تھے وہ۔ہائے، انکے چہرے اتنے سرخ تھے کہ کیا کہوں! میں نے ان کی ماں سے کہا کہ وہ اپنے چھوٹے لڑکے کشنو کو میرے ساتھ بھیج دے۔ وہ ہنس کر بولی کہ تم سب کو لے جاؤ، یہاں کون سے ان کیلئے موتی رکھے ہیں۔ یہاں تو دو سال میں انکی ہڈیاں نکل آئیں گی، وہاں کھا پی کر اچھے تو رہیں گے۔ مجھے اس کی بات سن کر رونا آنے لگا۔۔۔میں اکیلی ہوتی تو شاید کئی دنوں کیلئے ان لوگوں کے پاس رہ جاتی۔ ایسے لوگوں میں جا کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔اب تو آپ کو بھی لگ رہا ہو گا کہ کتنی عجیب ہوں میں! یہ کہا کرتے ہیں کہ مجھے کسی اچھے نفسیاتی معالج سے اپنا تجزیہ کرانا چاہئے، نہیں تو کسی دن میں پاگل ہو کر پہاڑوں پر بھٹکتی پھروں گی! “
  “یہ تو اپنی اپنی بناوٹ کی بات ہے،” میں نے کہا، “مجھے خود پرانی وضع کے لوگوں کے درمیان رہنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں آج تک ایک جگہ گھر بنا کر نہیں رہ سکا اور نہ ہی آئندہ امید ہے کہ کبھی رہ سکوں گا۔ مجھے اپنی زندگی کی جو رات سب سے زیادہ یاد آتی ہے، وہ رات میں نے پہاڑی گوجروں کی ایک بستی میں بسر کی تھی۔ اس رات اس بستی میں ایک بیاہ تھا، تو ساری رات وہ لوگ شراب پیتے اور ناچتے گاتے رہے۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی، جب مجھے بتایا گیا کہ وہی گوجر دس دس روپے کیلئے آدمی کا خون بھی کر دیتے ہیں!”
  “آپ کو واقعی اس طرح کی زندگی اچھی لگتی ہے؟” اس نے کچھ حیرت اور غیر یقینی کے ساتھ پوچھا۔
  “آپ کو شاید خوشی ہو رہی ہے کہ اس پاگل پنے کی آپ اکیلی ہی امیدوار نہیں ہیں،” میں نے مسکرا کر کہا۔ وہ بھی مسکرائی۔ اس کی آنکھیں اچانک جذباتی ہو اٹھیں۔ اس ایک لمحے میں مجھے ان آنکھوں میں نہ جانے کیا کچھ دکھائی دیا۔ہمدردی،حساسیت، ممتا،جذباتیت،چاؤ، خوف، کشمکش اور پیار! اس کے ہونٹ کچھ کہنے کے لئے کانپے، لیکن کانپ کر ہی رہ گئے۔ میں بھی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ چند لمحوں کیلئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا دماغ بالکل خالی ہے اور مجھے پتہ نہیں کہ میں کیا کر رہا تھا اور اس کے بعد کیا کہنا چاہتا تھا۔ دفعتاً اسکی آنکھوں میں پھر وہی سوناپن بھرنے لگا ۔ اور پل بھر میں ہی وہ اتنا بڑھ گیا کہ میں نے اس کی جانب سے نظریں ہٹا لیں۔
بتی کے پاس اڑتا کیڑا اس کے ساتھ چپک کر جھلس گیا تھا۔
بچی نیند میں مسکرا رہی تھی۔
  کھڑکی کے شیشے پر اتنی دھند جم گئی تھی کہ اس میں اپنا چہرہ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔
  گاڑی کی رفتار سست ہو رہی تھی۔شاید کوئی اسٹیشن آ رہا تھا۔ دو ایک بتیاں تیزی سے نکل گئیں۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ اٹھا دیا۔ باہر سے آتی برفانی ہوا کے لمس نے حواسوں کو تھوڑا سا بیدار کر دیا۔ گاڑی ایک بہت نیچے پلیٹ فارم کے پاس آکر کھڑی ہو رہی تھی۔
یہاں کہیں تھوڑا سا پانی ملے گا؟
  میں نے چونک کر دیکھا کہ وہ اپنی ٹوکری میں سے شیشے کاگلاس نکال کر غیر یقینی کے انداز سے ہاتھ میں لئے ہے۔ اس کے چہرے کی لکیریں پہلے سے گہری ہو گئی تھیں۔
  “پانی آپ کوپینے کیلئے چاہئے؟” میں نے پوچھا۔
  “ ہاں۔ کلی کروں گی اور پیوں گی بھی۔ نہ جانے کیوں ہونٹ کچھ چپک رہے ہیں۔ باہر اتنی سردی ہے، پھر بھی۔۔۔
  “دیکھتا ہوں، اگر یہاں کوئی نل ول ہو تو۔۔۔
  میں نے گلاس اس کے ہاتھ سے لے لیا اور فوری طور پر پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ نہ جانے کیسا منحوس اسٹیشن تھا کہ کہیں پر بھی کوئی انسان نظر نہیں آ رہا تھا۔ پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی ہوا کے جھونکوں سے ہاتھ پیر سن ہونے لگے۔ میں نے کوٹ کے کالر اونچے کر لیے۔ پلیٹ فارم کے جنگلے کے باہر سے پھیل کر اوپر آئے دو ایک درخت ہوا میں سرسرا رہے تھے۔ انجن کے بھاپ چھوڑنے سے لمبی شوں اُو ں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ شاید وہاں گاڑی سگنل نہ ملنے کی وجہ سے رک گئی تھی۔
  دور چند ڈبوں پیچھے ایک نل دکھائی دیا، تو میں تیزی سے اس کی طرف چل دیا۔ اینٹوں کے پلیٹ فارم پر اپنے جوتوں کی آواز مجھے بہت عجیب سی لگی۔ میں نے چلتے چلتے گاڑی کی طرف دیکھا۔ کسی کھڑکی سے کوئی چہرہ باہر نہیں جھانک رہا تھا۔ میں نل کے پاس جا کر گلاس میں پانی بھرنے لگا۔ تبھی ہلکی سی سیٹی دے کر گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ چل پڑی۔ میں بھرا ہوا پانی کا گلاس لیے اپنے ڈبے کی طرف دوڑا۔ دوڑتے ہوئے مجھے لگا کہ میں اس ڈبے تک نہیں پہنچ پاؤں گا اور سردی میں اس اندھیرے اور ویران پلیٹ فارم پر ہی مجھے بغیر سامان کے رات گزارنی ہوگی۔ یہ سوچ کر میں اور تیز دوڑنے لگا۔ کسی طرح اپنے ڈبے کے قریب پہنچ گیا۔ دروازہ کھلا تھا اور وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر گلاس مجھ سے لیا۔ فٹ بورڈ پر چڑھتے ہوئے ایک بار میرا پاؤں ذرا سا پھسلا، مگر اگلے ہی لمحے میں سنبھل کر کھڑا ہو گیا۔ انجن تیز ہونے کی کوشش میں ہلکے ہلکے جھٹکے دے رہا تھا اور اینٹوں کے پلیٹ فارم کی جگہ اب نیچے مبہم گہرائی دکھائی دینے لگی تھی۔
  “اندر آ جائیے۔
  اس کے یہ الفاظ سن کر مجھے احساس ہوا کہ مجھے فٹ بورڈ سے آگے بھی کہیں جانا ہے۔ ڈبے کے اندر قدم رکھا، تو میرے گھٹنے ذرا ذرا سے کانپ رہے تھے۔
  اپنی جگہ پر پہنچ کر میں نے ٹانگیں سیدھی کر کے پیچھے ٹیک لگالی۔ چند لمحوں بعد آنکھیں کھولیں تو لگا کہ وہ اس بیچ منہ دھو آئی ہے۔ پھر بھی اس کے چہرے پر مردنی سی چھا رہی تھی۔ میرے ہونٹ سوکھ رہے تھے، پھر بھی میں تھوڑا سا مسکرایا۔
  “کیا بات ہے، آپ کا چہرے ایسا کیوں ہو رہا ہے؟” میں نے پوچھا۔
  “میں کتنی منحوس ہوں ۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے اپنا نچلا ہونٹ ذرا سا کاٹ لیا۔
  “کیوں؟
  “ابھی میری وجہ سے آپ کو کچھ ہو جاتا۔۔۔
  “یہ خوب سوچا آپ نے!”
  “نہیں۔ میں ہوں ہی ایسی ۔۔۔ “وہ بولی،”زندگی میں ہر ایک کو دکھ ہی دیا ہے۔ اگر کہیں آپ نہ چڑھ پاتے۔۔۔
  “تو؟
  “تو؟” اس نے ہونٹ ذرا سکوڑے، “تو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔پر۔۔
  اس نے خاموش ہو کر آنکھیں جھکا لیں۔ میں نے دیکھا کہ اس کی سانس تیزی سے چل رہی ہیں۔ جانا کہ حقیقی آفت کے مقابلے میں آفت کا تخیل زیادہ بڑا اور خطرناک ہوتاہے۔ شیشہ اٹھا رہنے کی وجہ سے کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔ میں نے کھینچ کر شیشہ نیچے کر دیا۔
  “آپ کیوں گئے تھے پانی لانے کیلئے؟ آپ نے منع کیوں نہیں کر دیا؟ “ اس نے پوچھا۔
اسکے پوچھنے کے انداز سے مجھے ہنسی آ گئی۔
  “آپ ہی نے تو کہا تھا۔
  “میں تو پاگل ہوں، کچھ بھی کہہ دیتی ہوں۔ آپ کوتو سوچنا چاہیے تھا۔
  “اچھا، میں اپنی غلطی مان لیتا ہوں۔
اس سے اس کے مرجھائے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔
  “آپ بھی کہیں گے، کیسی لڑکی ہے،” اس نے اندرونی اظہار کے ساتھ کہا۔”سچ کہتی ہوں، مجھے ذرا عقل نہیں ہے۔ اتنی بڑی ہو گئی ہوں، پر عقل رتی بھر نہیں ہے،سچ! “
میں پھر ہنس دیا۔
  “آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟” اس کی آواز میں ایک بار پھر شکایت گھلی تھی۔
مجھے ہنسنے کی عادت ہے۔” میں نے کہا۔
ہنسنا اچھی عادت نہیں ہے۔
مجھے اس پر پھر ہنسی آ گئی۔
وہ شکایت بھری نظر وں سے مجھے دیکھتی رہی۔
گاڑی کی رفتار پھر تیزہو رہی تھی۔ اوپر کی برتھ پر لیٹا آدمی اچانک ہڑبڑاکے اٹھ بیٹھا اور زور زور سے کھانسنے لگا۔ کھانسی کا دورہ کم ہونے پر اس نے کچھ وقت سینے کو ہاتھ میں دبائے رکھا، پھر بھاری آواز میں پوچھا، “کیا بجا ہے؟
پونے بارہ۔” میں نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
بس پونے بارہ؟” اس نے مایوسی بھرے لہجے میں کہا اور پھر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھرخراٹے بھرنے لگا۔
آپ بھی تھوڑی دیر سو جائیے۔” وہ پیچھے ٹیک لگائے شاید کچھ سوچ رہی تھی یا صرف دیکھ رہی تھی۔
آپ کو نیند آ رہی ہے،آپ سو جائیے،” میں نے کہا۔
میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ مجھے گاڑی میں نیند نہیں آتی۔آپ سو جائیے۔
میں نے لیٹ کر کمبل اوڑھ لیا۔ میری آنکھیں دیر تک اوپر جلتی بتی کو دیکھتی رہیں ،جس کے ساتھ جھلسا ہوا کیڑا چپک کر رہ گیا تھا۔
رضائی بھی لے لیجئے، کافی ٹھنڈ ہے،” اس نے کہا۔
نہیں، ابھی ضرورت نہیں ہے۔ میں بہت سے گرم کپڑے پہنے ہوں۔
لے لیجئے،ورنہ بعد میں ٹھٹھرتے رہ جائیں گے۔
نہیں، ٹھٹھروں گا نہیں۔” میں نے کمبل گلے تک لپیٹتے ہوئے کہا، “اور تھوڑی تھوڑی ٹھنڈ محسوس ہوتی رہے تو اچھا لگتا ہے۔
بتی بجھا دوں؟” کچھ دیر بعد اس نے پوچھا۔
نہیں، رہنے دو۔
نہیں، بجھا دیتی ہوں۔ ٹھیک سے سو جائیے۔ “ اور اس نے اٹھ کر بتی بجھا دی۔ میں کافی دیر اندھیرے میں چھت کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر مجھے نیند آنے لگی۔
  شاید رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی، جب انجن کے بھونپو کی آواز سے میری نیند کھلی۔ وہ آواز کچھ ایسی بھاری تھی کہ میرے پورے بدن میں ایک جھرجھری سی بھر گئی۔ پچھلے کسی اسٹیشن پر انجن بدل گیا تھا۔
  گاڑی آہستہ آہستہ چلنے لگی تو میں نے سر تھوڑا اونچا اٹھایا۔ سامنے کی سیٹ خالی تھی۔ وہ عورت نہ جانے کس اسٹیشن پر اتر گئی تھی۔ اسی اسٹیشن پر نہ اتری ہو، یہ سوچ کر میں نے کھڑکی کا شیشہ اٹھا دیا اور باہر دیکھا۔ پلیٹ فارم بہت پیچھے رہ گیا تھا اور بتیوں کی قطار کے سوا کچھ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے شیشہ پھر نیچے کھینچ لیا۔ اندر کی روشنی اب بھی بجھی ہوئی تھی۔ بستر میں نیچے کو سرکتے ہوئے میں نے دیکھا کہ کمبل کے علاوہ میں اپنی رضائی بھی لیے ہوں، جسے اچھی طرح کمبل کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ گرمی کے کئی ایک کانٹے ایک ساتھ جسم میں بھر گئے۔
اوپر کی برتھ پر لیٹا آدمی اب بھی اُسی طرح زور زور سے خراٹے بھر رہا تھا۔  

  تعارف مصنف:
موہن راکیش 8 جنوری 1925 ءکو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ نئی ہندی کہانی کے بانیوں میں شمار ہوئے۔ ناول لکھے۔ ہندوستانی تھیٹر میں موہن راکیش کا ایک منفرد مقام ہے۔ 3 جنوری 1972ء کو دہلی میں وفات پائ